پنجاب میں خریف کی بڑی فصلوں کے بارے میں رواں سال مثبت اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ زرعی ماہرین اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق حالیہ سیلاب کے باوجود صوبے کی مکئی، دھان اور کپاس کو مجموعی طور پر محدود نقصان ہوا ہے، جس کا تخمینہ صرف 8 سے 10 فیصد لگایا جا رہا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق صوبے کی 2 کروڑ ایکڑ زرعی اراضی میں سے تقریباً 18 لاکھ ایکڑ رقبہ زیرِ آب آیا اور 27 اضلاع متاثر ہوئے، لیکن خوش آئند پہلو یہ ہے کہ زیادہ تر فصلیں اُس وقت تک پختگی کے مرحلے پر پہنچ چکی تھیں، اس لیے بڑے پیمانے پر تباہی سے بچ گئیں۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب کا وقت ہی نقصان کو محدود رکھنے میں اہم ثابت ہوا۔ ستمبر تک مکئی، دھان اور کپاس کی فصلیں یا تو مستحکم ہو چکی تھیں یا کٹائی کے قریب تھیں، جس کے باعث کھڑے پانی میں بھی یہ فصلیں زیادہ متاثر نہ ہوئیں۔
صفر سے کھربوں تک کا سفر، پاکستانیوں کیلئے حلال انڈسٹری میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت آگیا!
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں مکئی اور دھان کی بلند قیمتیں کسانوں کے لیے سہارا بنی ہیں۔ اس سال کسانوں کو شدید مالی دھچکے کا خدشہ نہیں، بلکہ کئی اضلاع میں بہتر پیداوار سامنے آئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق کپاس کی پیداوار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق ستمبر کے تیسرے ہفتے تک ملک کی کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جس میں پنجاب کا حصہ کلیدی رہا۔ اسی طرح صوبے کی جننگ فیکٹریوں میں 28 فیصد زیادہ گانٹھیں پہنچیں۔
چاول کے حوالے سے بھی رپورٹ حوصلہ افزا ہے۔ رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اختر کے مطابق باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کی پیداوار میں نمایاں کمی کا امکان نہیں۔ صرف چند اضلاع جیسے نارووال، سیالکوٹ اور قصور میں نقصان ہوا، تاہم مجموعی طور پر دھان کی پیداوار گزشتہ سال کے برابر یا اس سے بہتر رہنے کی امید ہے۔
برآمدات کے محاذ پر بھی اچھی خبریں ہیں۔ ماہرین پر امید ہیں کہ صحت مند ملکی پیداوار اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث 2025 میں پاکستان کی چاول کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کے باوجود ماہرین پُراعتماد ہیں کہ گندم کی بروقت کاشت متاثر نہیں ہوگی۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ربیع سیزن کے لیے زمینیں تیار ہیں اور خوراک کی سب سے بڑی ضرورت گندم کی کاشت اپنے وقت پر ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








