جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کو فول پروف سیکورٹی دی جائے۔ سندھ حکومت اور کراچی انتظامیہ نے علمائے کرام کو نہتا کرکے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان نے حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے جاری بیان میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
پاکستانی لڑکے کی محبت میں سویڈش خاتون سوات پہنچ گئیں
قاری عثمان نے کہا کہ منصوبے کے تحت مذہبی قیادت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آئی جی سندھ، کمشنر کراچی اور ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی علمائے کرام کو دہشتگردوں کا ہدف نہ بنائیں۔ ملک کی سب سے بڑی امن کی داعی مذہبی طاقت جمعیت علمائے اسلام کو گہری سازش کے تحت ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔
علماء کو کچھ ہوا تو اسکی ذمہ داری کراچی انتظامیہ، سندھ پولیس اور صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ علمائے کرام سے سیکورٹی واپس لینے والوں کو ہی حملوں کا ذمہ دار سمجھنا مجبوری ہوگی۔
قاری محمد عثمان نے کہا کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مذہبی رہنماؤں کی سیکورٹی واپس لینے کے عمل سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ ہمیں دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی کے تمام اراکین شاید دہشتگردوں کو ٹارگٹ فراہم کرنے میں سہولت کا ر کاکردار ادا کررہے ہیں۔ سندھ حکومت، کراچی انتظامیہ اور ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی اپنی پوزیشن واضح کرے۔
انہوں نے کہا کہ ایجنسیوں اور انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے واضح تھریٹ رپورٹس جاری ہونے کے باوجود علماء سے سیکورٹی واپسی کا عمل انتہائی تشویشناک اور کمشنر کراچی، وزیر اعلٰی سندھ سمیت پوری ڈویژنل تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی پر سوالیہ نشان ہے۔ یہ کمیٹی تحفظ فراہم کرنے کیلئے بنی ہے یا دہشتگرد عناصر کو راستہ دینے کیلئے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








