کڈنی ہل مسجد کے فرش کو توڑنے پر قاری عثمان کا انتظامیہ کو سخت انتباہ

تازہ ترین

تازہ ترین

کڈنی ہل مسجد کے فرش کو توڑنے پر قاری عثمان کا انتظامیہ کو سخت انتباہ
کڈنی ہل مسجد کے فرش کو توڑنے پر قاری عثمان کا انتظامیہ کو سخت انتباہ

کراچی : جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء قاری محمد عثمان نے الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کے دورے کے موقع پر ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کڈنی ہل پارک کی جامع مسجد الفتح کی شہادت اور بقیہ صحن کو توڑنے پر علمائے کرام کا اتوار کو شہید مسجد کے ملبے پر اجلاس کا اعلان۔ انتظامیہ ہر قسم کے نتائج کیلئے تیار رہے۔

کراچی کے جید، نامور علماء اور آئمہ مساجد کا اتوار بعد نماز ظہر الفتح مسجد کے ملبے پر غیر معمولی اجلاس ہوگا۔ 35 سال سے قائم قدیم الفتح مسجد کڈنی ہل پارک کو ناجائز تجاوزات قرار دیکر مسمار کرنا اور بقیہ فرش کو توڑنا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے۔ مسلم معاشرے میں مساجد کو ڈھانے اور شہید کرنے کی مثال نہیں ملتی۔ مسجد کی زمین کا ایک انچ بھی کسی اور مقصد کیلئے استعمال کرنا ازروئے شریعت حرام ہے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ مسجد الفتح کیلئے 1991 میں اس وقت کے میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستار نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کے والد احمد میاں سومرو اور کمیٹی کے ارکان کو 1440 گز زمین الاٹ کی تھی جسکا سائٹ پلان اور تمام کاغذات موجود ہیں۔ پاکستان میں مساجد کو ناجائز تجاوزات کے نام پر شہید کرنے کا بھونڈا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی انتظامیہ اور صوبائی حکومت اگر خانہ جنگی اور انارکی چاہتی ہے تو پھر نتائج کی ذمہ دار خود ہونگی۔ ہم اپنی جانیں قربان کردیں گے مگر مساجد کی شہادت اور دین دشمنی برداشت نہیں کریں گے۔ قاری محمد عثمان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مکروہ فعل سے باز آتے ہوئے مسجد الفتح کی شہادت کے بعد بقیہ فرش کو توڑنے کے عمل کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دیکر نشان عبرت بنائے ورنہ کراچی بھر کے علماء اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں آزاد ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کو بعد نماز ظہر شہید الفتح مسجد کے ملبے پر کراچی کے نامور اکابر علمائے کرام، مہتممین مدارس اور علاقے کے آئمہ مساجد کا غیر معمولی اجلاس ہو گا۔ اگر کراچی کو جام بھی کرنا پڑا تو دریغ نہیں کریں گے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز نے دین کو مذاق سمجھ رکھا ہے۔ اگر حالات خراب ہوئے تو اسکی تمام تر ذمہ داری کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر، کے ایم سی اور کراچی انتظامیہ پر ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں : سکھر:قاسم آباد میں نکاسی آب کا نظام ناکارہ ہوگیا، گٹروں کا پانی دکانوں میں داخل

Related Posts