لاہور کے علاقے چوہنگ میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں قاری کی بیوی کو اس کے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اس ظلم کے بعد لاہور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش تاحال جاری ہے۔
متاثرہ شوہر جو ایک مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم دیتے ہیں، نے ایف آئی آر میں بیان دیا کہ وہ 30 جولائی کی شب ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اپنی 18 سالہ اہلیہ کے ساتھ شاہ پور کانجراں کے قریب کھیتوں میں چہل قدمی کر رہے تھے، جب تین مسلح افراد نے عقب سے آ کر انہیں دھمکایا۔ ملزمان کے پاس کلہاڑی اور پانی کاپائپ موجود تھا، جن کے زور پر وہ میاں بیوی کو کھیتوں میں لے گئے۔
قاری کے مطابق ایک حملہ آور کی عمر تقریباً 17 سے 18 سال، رنگ گورا اور جسم پتلا تھا، دوسرا 24 سے 25 سالہ سانولا، موٹے جسم کا اور پست قد تھا، جو قمیض اور جینز پہنے ہوئے تھا جبکہ تیسرا 27 سے 28 سال کا، گندمی رنگت کا اور بظاہر نشے کی حالت میں تھا۔
ملزمان نے قاری اور اس کی اہلیہ کو زبردستی برہنہ کیا اور باری باری خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ قاری نے بتایا کہ وہ بے بسی سے یہ ظلم دیکھتے رہے اور کچھ بھی نہ کر سکے۔ بعد ازاں ملزمان نے ایک اور شخص کو بلایا، جس نے آ کر خاتون کے ساتھ دوبارہ زیادتی کی۔ المیہ یہ ہے کہ اس پورے ظلم کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی گئی۔
واقعے کے بعد لاہور پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ملزمان کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا۔
پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران ملزمان نے سی سی ڈی ٹیم پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ جوابی کارروائی میں دو مرکزی ملزمان، اویز اور ارشاد، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ دونوں ملزمان واقعے میں براہِ راست ملوث تھے اور انہوں نے درندگی کی تمام حدیں عبور کر دی تھیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دیگر مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے مزید کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








