بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف انتہاپسندانہ کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں، تازہ ترین واقعے میں چند انتہاپسند ہندو عناصر نے ایک مسجد کے اندر زبردستی داخل ہو کر باجوں اور بینڈ کی آواز میں شور شرابا کیاجس کا مقصد واضح طور پر مسلمانوں کی نماز میں خلل ڈالنا اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنا تھا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو شدت پسند بینڈ باجوں کے ساتھ مسجد کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں جبکہ نمازی بے بسی سے اپنی عبادت مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف عبادت گاہ کی بے حرمتی کے مترادف ہے بلکہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت اور اشتعال انگیزی کی علامت بھی ہے۔
Radical Hindus entered a mosque and played band in attempt to disrupt the Muslim prayer pic.twitter.com/znDfbaFzE0
— Crime Reports India (@AsianDigest) July 5, 2025
انسانی حقوق کی تنظیموں، اقلیتوں کے نمائندوں اور مختلف مذہبی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں۔
واقعے کے بعد مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور مختلف شہروں میں احتجاج کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ علمائے کرام اور سماجی کارکنان نے عوام سے پرامن احتجاج اور قانونی ذرائع سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف بھارت کے سیکولر تشخص پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بھارت میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








