چینی فوج بھارت میں داخل، راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ، سابق آرمی چیف کا حوالہ دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

راہل گاندھی
(فوٹو: آن لائن)

چینی فوج بھارت میں داخل ہوگئی، بھارتی لوک سبھا میں اپوزیشن راہل گوندھی کے بیان پر پیر کے روز ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جبکہ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سابق بھارتی آرمی چیف کی کتاب کا حوالہ دیا تھا جو ایمازون پر شائع ہوچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ایک بیان پر پیر کے روز ایوان میں خوب بحث ہوئی۔  بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک کے دوران بحث میں حصہ لیتے ہوئے راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے آغاز میں دعویٰ کیا کہ چینی ٹینک بھارت کے اندر داخل ہو گئے تھے۔

ایوان میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے دوران بھارتی  وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے فوراً سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ایوان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسی دوران وزیر داخلہ امت شاہ بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور راہل گاندھی کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم راہل گاندھی کانگریس کے منجھے ہوئے سیاسی رہنما ہیں۔ انہوں نے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ بات انہوں نے کسی افواہ کی بنیاد پر نہیں کہی بلکہ سابق آرمی چیف جنرل منوج نے اپنی ایک کتاب میں چینی دراندازی کے حوالے سے یہ بات تحریر کی اور 2020 کے دوران لداخ اور گلوان میں چین کے ساتھ جھڑپوں اور چینی پیش قدمی کا اعتراف کیا۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تحقیق کرنے کی بجائے اپنے طور پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں۔ کسی کتاب کا اس طرح حوالہ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی راج ناتھ سنگھ کے بیان کی تائید کی۔

سچ کیا ہے؟

اس سے قطعِ نظر کہ سابق آرمی چیف نے اپنی کتاب میں چین کے بھارت میں داخلے کا ذکر کیا یا نہیں، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سابق بھارتی آرمی چیف کی یہ کتاب ایمازون پر دستیاب ہے جسے راہل گاندھی سمیت کوئی بھی شخص خرید کر پڑھ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ سال 2020 میں لداخ کے گلوان سیکٹر میں بھارت اور چین کی فورسز کے مابین شدید ہاتھا پائی اور جھڑپیں ہوئی تھیں جو گزشتہ 45سال میں سب سے سنگین واقعہ تھا۔ اس جھڑپ میں بھارتی فوج کے کم از کم 20 افسر اور جوان ہلاک ہوگئے تھے۔

Related Posts