ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فضا میں موجود زہریلے ذرات بارش کے ساتھ مل کر انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسچین لنڈمائیر نے جنیوا میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو حالیہ دنوں میں ایران سے ایسی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں سیاہ یا آلودہ بارش کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ان کے مطابق تہران میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد شہر کی فضا میں گہرا دھواں پھیل گیا تھا جس کے باعث فضائی آلودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ترجمان کے مطابق تیل کی تنصیبات میں لگنے والی آگ سے فضا میں ہائیڈروکاربن، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن پر مشتمل زہریلے مرکبات بڑی مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔ یہ ذرات بارش کے ساتھ مل کر آلودہ یا تیزابی بارش کی صورت اختیار کر سکتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ذرات کو سانس کے ذریعے اندر لینا یا جلد کے ساتھ ان کا رابطہ ہونا سر درد، آنکھوں میں جلن، جلدی خارش اور سانس لینے میں دشواری کا باعث بن سکتا ہے۔ طویل عرصے تک اس قسم کی آلودگی کے اثرات میں رہنے سے سنگین بیماریوں حتیٰ کہ بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق بلیک رین اس وقت بنتی ہے جب فضا میں موجود دھواں اور آلودہ ذرات بارش کے قطروں کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ماسک کا استعمال کریں اور کھلی جگہوں پر جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر مزید حملے نہ ہوئے تو وقت کے ساتھ فضائی آلودگی میں کمی آ سکتی ہے اور ماحول بتدریج بہتر ہونے کا امکان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








