تیل کے جہاز پہنچ گئے، ذخیرہ بھی موجود مگر پیٹرول مہنگا؟ شہباز حکومت عوام کو ریلیف دینے پر آمادہ نہیں ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور ذخائر میں کمی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان کو ایندھن سے لدے چار بڑے جہاز موصول ہوگئے ہیں جو پورٹ قاسم پہنچ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ متاثر ہونے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر کیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ان چار جہازوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 76 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل اور پیٹرول موجود ہے جس سے ملک میں ایندھن کی سپلائی کو مستحکم کرنے اور حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی قلت کے خدشات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلا جہاز؛ ایم ٹی ٹورم دامینی 8 مارچ کو تقریباً 37 ہزار ٹن ہائی اسپیڈ ڈیزل لے کر پورٹ قاسم پہنچا اور فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کے بعد اپنا کارگو مکمل طور پر اتار چکا ہے، جس سے فوری طور پر ذخائر کو سہارا ملا۔

دوسرا جہاز؛ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس تقریباً 50 ہزار ٹن پیٹرول لے کر 9 مارچ کو پاکستان پہنچا جبکہ اسے 11 مارچ کو برتھ ملنے کے بعد پیٹرول کی منتقلی شروع ہونے کی توقع ہے۔

تیسرا جہاز؛ ایم ٹی سپروس ٹو جس میں 55 ہزار ٹن پیٹرول موجود ہے اس وقت برتھ کا انتظار کر رہا ہے اور امکان ہے کہ 12 مارچ تک اس کا کارگو بھی اتار لیا جائے گا۔

چوتھا جہاز؛ ایم ٹی سی کلپر تقریباً 34 ہزار ٹن پیٹرول لے کر پاکستانی سمندری حدود میں پہنچ چکا ہے اور برتھنگ شیڈول کے مطابق اسے 11 سے 14 مارچ کے درمیان پورٹ قاسم پر لنگر انداز کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام کھیپیں ملک میں ایندھن کی سپلائی پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی جبکہ مزید تیل کی ترسیل بھی جلد متوقع ہے جو فجیرہ، عمان اور سنگاپور سمیت مختلف ذرائع سے پاکستان پہنچے گی۔

پٹرولیم ڈویژن اور پورٹ قاسم اتھارٹی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر متبادل راستوں، خصوصاً سعودی عرب کے ذریعے سپلائی کے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تیل کے جہازوں کی آمد کے باوجود حکومت کی جانب سے عوام کو فوری ریلیف نہیں دیا جا رہا جبکہ حال ہی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے حالانکہ موجودہ ذخیرہ اس وقت خریدا گیا تھا جب ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں حالیہ شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔

Related Posts