برساتی نالوں نے خفیہ خزانہ اُگل دیا؛ کوہِ سلیمان سے صدیوں پرانے سکے برآمد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوہِ سلیمان میں حالیہ بارشوں کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے جہاں کئی علاقوں میں تباہی مچائی وہیں ایک حیران کن انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سخی سرور کے برساتی نالوں سے صدیوں پرانے نایاب سکوں کا خزانہ برآمد ہوا ہے جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے شوقین افراد کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد کے مطابق، ان سکوں میں دو ہزار سال قبل کے دور کے سکے بھی شامل ہیں جن کا تعلق ویما دیواکنشکا کے عہد سے ہے۔

اس کے علاوہ یہاں سے مختلف تاریخی ادوار کے سکے بھی دریافت ہوئے ہیں جن میں نواں نگر کج ریاست، لودھی خاندان، درانی سلطنت، سکھ دورِ حکومت، نادر شاہ، تغلق سلطنت اور مغل بادشاہوں جیسے شاہجہان اورنگزیب عالمگیر اور بہادر شاہ ظفر کے عہد کے سکے شامل ہیں۔

برآمد ہونے والے سکوں میں برطانوی نوآبادیاتی دور، چین، خراسان اور بعض عرب ریاستوں کے سکے بھی شامل ہیں جو اس علاقے کی قدیم بین الاقوامی تجارتی اور سیاسی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر سلیمان تنویر نے تصدیق کی ہے کہ سخی سرور کے پہاڑی نالے کا یہ راستہ صدیوں تک تجارتی قافلوں اور بادشاہوں کے سفر کی گزرگاہ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے گزرنے والے قافلے وسطی ایشیا اور خراسان تک کا سفر کرتے تھے اور اس سے قبل بھی اس علاقے سے قدیم سکے دریافت ہوتے رہے ہیں۔

یہ دریافت نہ صرف تاریخی لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ پاکستان کی سرزمین تہذیبوں کا گہوارہ رہی ہے جس میں وقت کے ساتھ کئی سلطنتیں، قومیں اور تمدن آتے جاتے رہے۔

Related Posts