اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ اور وزیراعظم شہباز شریف کے موجودہ مشیر رانا ثناء اللہ نے پارٹی قائد نواز شریف کے بارے میں 2 پیشگوئیاں کی تھیں جو سچی نکلی ہیں۔
آج سے ٹھیک 1 سال قبل جون 2023 میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف انتخابات سے قبل وطن واپس آئیں گے جبکہ نواز شریف نے پارٹی کے متعلق ایک درخواست بھی قبول کر لی ہے۔
اس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عام انتخابات سے 60 سے 90 روز قبل میاں صاحب واپس آئیں گے۔ واپسی کی تاریخ میاں صاحب نے دینی ہے، کوئی اور تاریخ نہیں دے سکتا، انتخابات میں پارٹی کو لیڈ کرنے کی درخواست میاں صاحب نے قبول کر لی ہے۔
سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کوئی سیاسی انجینئرنگ نہیں ہو رہی جو یہ کہہ رہا ہے جھوٹ کہہ رہا ہے، 2018 میں جو ہوا وہ اب ہو رہا ہے تو انہیں کیوں اعتراض ہے، جو لوگ 2018 میں ایک جگہ اکٹھے ہوئے وہ اب کسی اور جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں تو پریشانی کی کیا بات ہوسکتی ہے؟
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عام انتخابات میں سیاسی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، اگر ن لیگ کو اکثریت ملی تو وزیر اعظم وہ بنے گا جسے نواز شریف چاہیں گے۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے لیکن ہمیں یہ آپشن اوپن رکھنا ہوگی۔
پیشگوئیاں؟
جب تک نواز شریف وطن واپس نہیں لوٹے تھے، ان کی وطن واپسی کے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سمیت ملک کے مختلف سیاست دانوں نے پیشگوئیاں کیں جو جھوٹی نکلیں، تاہم رانا ثناء اللہ نے نواز شریف کی وطن واپسی کے متعلق الیکشن سے قبل آمد کی جو پیشگوئی کی ہے، وہ سچی نکلی۔
اسی طرح رانا ثناء اللہ نے 1 سال قبل دئیے گئے بیان میں کہا کہ وزیراعظم وہ بنے گا جسے نواز شریف چاہیں گے، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ رانا ثناء اللہ نواز شریف کے خود وزیراعظم نہ بننے کے متعلق پہلے سے جانتے تھے، حالانکہ مسلم لیگ (ن) میں نواز شریف کے علاوہ کسی اور کو وزیراعظم بنانے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








