گزشتہ 5سال میں سائنس نے اتنی حیرت انگیز ترقی اور اتنی خوفناک ایجادات کی ہیں جن کی ایک جھلک بھی عوام کی نیندیں اڑا دینے کیلئے کافی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی آمد کے ساتھ ہی ایجادات کی رفتار اتنی تیز ہوگئی ہے جس کا ماضی میں تصور تک نہیں کیاجاسکتا تھا۔
وہ ایجادات جو گزشتہ 50سالوں میں ممکن ہی نہیں تھیں، آج اتنی درستگی کے ساتھ نتائج دینے لگی ہیں کہ سائنسدان حیران ہیں کہ آنے والا وقت اور 2050 تک کی جانے والی مزید ایجادات انسانیت کو کس راستے پر لے جائیں گی۔ آئیے گزشتہ 5سال کی ایجادات کا ہی جائزہ لے لیتے ہیں۔
پروٹین کی شکل و صورت کیا ہے؟ یہ معلوم کرنا یا پیشگوئی کرنا انتہائی پیچیدہ عمل تھا تاہم ڈیپ مائنڈ اے آئی نے 20 کروڑ پروٹینز کی شکل و صورت کی پیشگوئی کرکے سائنسدانوں کو حیران کردیا۔ جو کام کرنے میں سالوں لگتے تھے، آج سیکنڈز کے حساب سے ہوجاتے ہیں۔
جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے ایسی ایسی دنیائیں دریافت کیں جن کا ماضی میں تصور تک محال تھا۔ مثال کے طور پر ایک ایسی کہکشاں دریافت کی گئی جس کا بگ بینگ کے صرف 28کروڑ سال بعد وجود ظاہر ہوگیا تھا اور یہ سائنسدانوں کی پہلے سے کی گئی پیشگوئیوں سے انتہائی مختلف رہی۔
جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی میں بھی حیران کن پیشرفت ہوئی جب سائنسدانوں نے ایک جینیاتی بیماری کا علاج کرنے کیلئے جین ایڈیٹنگ کا سہارا لیا۔ کچھ اسٹیم سیلز کو ہٹایا، ان کے ڈی این اے میں ایک لیب کے اندر تجربات کرتے ہوئے تبدیلیاں کیں، اور کامیاب علاج کیا۔ اس دوران 30 میں سے 29مریضوں نے درد کی شکایت تک نہیں کی۔
سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز حقیقت دریافت کی کہ وزن کی کمی صحت کا کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ ذہن میں رونما ہونے والے ایک کیمیائی عمل سے جنم لینے والی پیچیدگی ہے، جس سے موٹاپے کے 15فیصد مریضوں کو ایڈوانسڈ قسم کے علاج کے ذریعے اپنا وزن کم کرنے کا موقع ملا۔
ایم آر این اے ٹیکنالوجی نے ثابت کردیا کہ انسان کا مدافعتی نظام اب ایک کھلی کتاب کی طرح واضح ہے جسے اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دوبارہ لکھا جاسکتا ہے یعنی کسی بھی انسان کے مدافعتی نظام کو کسی روبوٹ میں موجود مشینی سسٹم کی طرح کنٹرول کرنا ممکن ہوسکے گا۔
یہی نہیں، بلکہ صرف 4 گھنٹوں میں کسی بھی انسان کے جینوم کو پڑھنا ممکن ہوگیا ہے، نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع کیے گئے مضمون کے مطابق حال ہی میں سائنسدانوں نے جینوم سیکوئنسنگ صرف 3گھنٹے 57منٹ میں مکمل کرکے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروالیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








