ایک اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد جس کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں گزشتہ رات دیر گئے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسی دوران ایک امریکی وفد کے بھی پاکستان آنے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد دارالحکومت میں سکیورٹی اور ٹریفک انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق دورے اور ممکنہ سفارتی سرگرمیوں کے پیش نظر شہر میں ایک تفصیلی ٹریفک پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا سکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔
اس پلان کے تحت ریڈ زون اور اس سے ملحقہ تمام علاقے مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کو کورال سے زیرو پوائنٹ تک عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے مطابق سری نگر ہائی وے پر بھی وقفے وقفے سے پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
شہر میں ہیوی گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران اسلام آباد کی طرف آنے والے راستوں سے گریز کریں۔
اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز جیسے جی-5، جی-6، جی-7، ایف-6 اور ایف-7 کے رہائشیوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جن میں مریگلہ روڈ اور 9th ایونیو شامل ہیں۔ اسی طرح فیصل ایونیو سے آنے والی ٹریفک کو بھی 9th ایونیو کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے۔
بین الصوبائی ٹریفک کے لیے پشاور اور لاہور کے درمیان چلنے والی ہیوی گاڑیوں کو موٹروے نیٹ ورک کے ذریعے متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا ہے جن میں ٹیکسلا، چکری انٹرچینج، چک بیلی روڈ اور راول جی ٹی روڈ شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور حساس ملاقاتوں کے پیش نظر کیے گئے ہیں، جن کے باعث اسلام آباد ایک بار پھر علاقائی سفارت کاری کا مرکز بن گیا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور متعین کردہ متبادل راستوں کو اختیار کر کے کسی بھی پریشانی سے بچیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








