راولپنڈی :شہر میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں بڑھنے لگیں، ملزمان کھلے عام لوگوں کو اٹھاکر تاوان مانگنے لگے، پولیس کی روایتی سست روی، مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول، متاثرہ شخص نے اعلیٰ پولیس حکام سے مدد مانگ لی۔
تھانہ ویسٹریج کی حدود چوہڑ چوک مین پشاور روڈ کے رہائشی ابتسام منیر نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات 11 بجے کے قریب بوہڑ مسجد کی مخالف سمت الائیڈ بینک کے سامنے سروس روڈ پر میں سعد خواجہ کے ہمراہ موجود تھا کہ اتنی دیر میں سوزوکی کلٹس سفید رنگ اپلائیڈ فار آکر رکی جس کو احسن ستی چلا رہا تھا ۔
فرنٹ سیٹ پر مشال خان اور پیچھے سنی ستی اور علی ستی بیٹھے ہوئے تھے، علی ستی نے مجھے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا میں نے انکار کیا تو سنی ستی نے پستول نکال کر دکھایا اور کہا کہ اگر گاڑی میں نہ بیٹھے تو تیرے پیٹ میں گولیاں مار دوں گا،پھر انہوں نے مجھے پکڑ کر گاڑی میں زبردستی بٹھا لیا ۔
علی ستی اور سنی ستی نے مجھےاپنے درمیان میں بٹھا کر پستول میری پسلیوں کے ساتھ لگا دیا ،پھر یہ لوگ مجھے اپنے ڈیرے مجھے واقعی بوکڑہ لے گئے اور وہاں کچی روڈ کے کنارے واقع عمارت میں لے گئے جہاں اوپر بھینسیں بندھی ہوئی تھی اور بیسمنٹ میں لے جاکر مجھے باندھ دیا اور میری آنکھوں پر پٹی باندھی ۔
ابتسام منیر نے بتایا کہ لوگوں سے چھینا چھپٹی میں میرا موبائل فون کہیں گر گیا ،ان لوگوں نے مجھے ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا کہ اپنے بھائی اسامہ ضمیر کو فون کرکے پیسے منگواؤ جس پر میں نے انکار کیا تو انہوں نے مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا اور خوب تشدد کیا ۔
پھر انہوں نے اپنے طور پر میرے بھائی کو پیغام بھجوایا جس پر میرے بھائی اسامہ نے حامی بھر لی اور وہ ڈیرے پر آ گیا میرے بھائی کے آنے تک انہوں نے مجھے ڈیرے سے اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈال کر کسی مارکیٹ میں لے جا کر گھپ اندھیرے میں سے گزار کر کسی فلیٹ میں لے گئے اور وہاں مجھے بند کر دیا ۔
کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور اسلام آباد میں کسی نامعلوم جگہ پر لے آئے جہاں پر میرا بھائی اسامہ بھی آ گیا جس سے ان لوگوں نے سادہ کاغذ پر پستول تان کا دستخط کروا لیے اور مجھے اسامہ کے حوالے کردیا ۔
واپسی پر میرے بھائی اسامہ نے مجھے بتایا کہ میرے اغواء ہوتے ہی سعد خواجہ نے فون کرکے 15 اطلاع دے دی تھی جس پر بعد میں پولیس اسٹیشن بھی جاتا رہا اور پھر اسلام آباد بھی15پر فون کیا جس پر دباؤ میں آکر علی ستی کے گروہ نے مجھے چھوڑا اس دوران علی ستی مختلف ذرائع سے میرے گھر والوں سے چھ لاکھ روپے بطورِ تاوان مانگتا رہا اور علی ستی نے اپنے فون نمبر سے وائس نوٹ واٹس اپ بھی بھیجا جو اس نے بعد میں ڈلیٹ کر دیا ان لوگوں نے مجھے اغوا کر کے سخت زیادتی کی ہے ۔
میرے بھائی نے آج صبح آٹھ بجے مجھے ان سے آزاد کروایا اس کے بعد میں تھانہ ویسٹریج گیا جہاں پر سب انسپکٹر کفایت نے مجھ سے سادہ کاغذ پر دستخط کرا لیے اور کہا کہ وہ میرا بیان لکھے گا لیکن ابھی تک ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔
الائیڈ بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مجھے انہوں نے کیسے اغواء کیا ۔میں آر پی او راولپنڈی اورسی پی او راولپنڈی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ الائیڈ بینک کی فوٹیج لیکر ان تمام اغواء کاروں کے خلاف اغوا برائے تاوان کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور مجھے جانی تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دلوائی جائے ۔