راولپنڈی: یتیم لڑکی پر سگے ماموں کا تشدد، پولیس نے گھریلو معاملہ قرار دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

راولپنڈی: یتیم لڑکی پر سگے ماموں کا تشدد، پولیس نے گھریلو معاملہ قرار دے دیا
راولپنڈی: یتیم لڑکی پر سگے ماموں کا تشدد، پولیس نے گھریلو معاملہ قرار دے دیا

راولپنڈی: تھانہ بنی کے علاقہ اصغر روڈ کی رہائشی 30 سالہ یتیم لڑکی کو سگے ماموں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ متاثرہ لڑکی نے تھانہ بنی کو تحریری درخواست دے دی۔ پولیس مبینہ طور دوسری پارٹی کے ساتھ مل گئی اور معاملہ کو گھریلو تنازعہ قرار دیکر متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروائے بغیر واپس گھر بھیج دیا۔

متاثرہ لڑکی نے ایم ایم نیوز کی وساطت سے پولیس حکام سے انصاف اور تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ لڑکی اقراء قیصر نے بتایا کہ میں ملازمت پیشہ خاتون ہوں۔ تین ماہ قبل 3 جولائی 2021ء کو میری شادی کورنگ ٹاؤن اسلام آباد کے رہائشی کاشف احسان سے ہوئی جو ہواوے کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔ خاوند کے ساتھ ناچاقی چل رہی تھی۔ جمعہ 24 ستمبر 2021ء کو میں جاب پر جانے کے لئے نکلی تو میرے خاوند نے مجھے واپس گھر نہ آنے کا کہا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ تمہارا سامان تمہارے گھر بھجوا دوں گا۔ میں اپنا زیور وغیرہ لے کر اپنی بیوہ ماں کے پاس اصغر مال راولپنڈی آگئی۔

اقراء قیصر کے مطابق اگلے روز ہفتہ 25 ستمبر 2021ء کو دن تقریباً دو بجے میرے سسرالی میری ساس، دو نندیں خاوند کاشف احسان گھر پر آگئے۔ اسی دوران میرا سگا ماموں شعیب حیات عرف ناصر اور خالو عدیل بھی آگئے۔ گھر میں جھگڑا شروع ہوا تو میرے ماموں شعیب حیات نے مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ میں جان بچانے کے لئے بھاگ کر گلی میں نکلی تو میرے ماموں نے مجھے گلی میں زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔ میرے بالوں سے پکڑ کر مجھے سڑک پر پٹخ دیا۔ مجھے لاتیں ماریں۔ منہ پر طمانچے مارے۔ میرا خاوند اور سسرالی موقع پر تماشا دیکھتے رہے اور کہتے رہے کہ اسے اور مارو۔ مجھے محلہ داروں نے بچایا ۔ اس واقعہ کے گواہ پورا محلہ بھی ہے۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ میں بمشکل ان سے جان بچاکر رکشہ میں بیٹھی اور سیدھا تھانہ بنی آئی ۔ تفتیشی آفیسر سب انسپکٹر زین کو تحریری درخواست دی۔ ایس ایچ او کو بھی تمام صورتحال بتائی۔ پولیس کو ساتھ لئے گھر آئی تو ماموں سمیت تمام سسرالی بھاگ چکے تھے اور ساتھ میرا پرس جس میں میرے موبائل فونز، اماں اور سسرال کی طرف سے دئیے گئے طلائی زیورات، دس ہزار روپے کیش، آفس کارڈ اور اے ٹی ایم وغیرہ موجود تھا وہ بھی ساتھ لے جاچکے تھے۔

بعد ازاں پولیس نے میرے ماموں شعیب حیات اور سسرالیوں کو تھانے بلایا ۔ تشدد سے میرے بازو اور پاؤں پر چوٹیں آئی تھیں۔ میری درخواست پر قانونی کارروائی کرنے اور میرا میڈیکل کرانے کی بجائے پولیس میرے ماموں اور سسرالیوں کے ساتھ مل گئی اور رات دس بجے یہ کہہ کر مجھے واپس گھر بھیج دیاکہ یہ گھریلو معاملہ ہے۔ اسے آپس میں بات چیت کرکے ختم کرو۔

متاثرہ لڑکی کا مزید کہنا ہے کہ مجھے سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میرا زیور اور میری قیمتی چیزیں مجھ سے چھینی گئیں۔ مجھے ابھی بھی ان سے جان کا خطرہ ہے۔ میری پولیس حکام سے اپیل ہے کہ میرے ماموں اور سسرالیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مجھے انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس واقعہ کے حوالے سے ایم ایم نیوز نے جب تھانہ بنی کے سب انسپکٹر اور کیس کے تفتیشی آفیسر زین سے ان کا موقف جاننے کے لئے ٹیلی فونک رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی اقراء کی درخواست پر قانونی کاروائی ضرور ہوگی۔ چونکہ یہ گھریلو معاملہ تھا اس لئے انہیں آپس میں بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کے لئے وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اسے دارلامان بھجوانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ وہاں جانے کو تیار نہ ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اہل مدارس نے ہمیشہ اتحاد و یکجہتی سے دشمن کی چالوں کو ناکام بنایا، تربیتی کنونشن جہلم

Related Posts