انڈیا کے ایک انجینئرنگ کالج میں لڑکیوں کے ہاسٹل کے واش روم میں خفیہ کیمرا ملنے اور مبینہ ویڈیوز لڑکوں کے ہاسٹل میں شیئر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
این ڈی ٹی وی اور انڈیا ٹوڈے کے حوالے سے اردو نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کی شب انڈین ریاست آندھرا پردیش کے کرشنا ضلع کے ایک انجینئرنگ کالج میں لڑکیوں کے ہاسٹل کی طالبات نے احتجاج کیا۔
خفیہ کیمرا مبینہ طور پر طالبات کے ہوسٹل کے ایک واش روم میں نصب کیا گیا تھا جو کالج کی لڑکیوں کی حرکات کی ریکارڈنگ کر رہا تھا۔ یہ ویڈیوز مبینہ طور پر اسی کالج کے بوائز ہوسٹل کے طلبا کو فروخت بھی کی گئی تھیں۔
واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد مقدمہ درج کر کے فائنل ایئر کے ایک طالب علم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
طلبا کے مطابق 300 سے زائد ویڈیوز مبینہ طور پر ریکارڈ کی گئیں اور لڑکوں کے ہاسٹل میں پھیلائی گئیں۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق گڈلاواللیرو کالج آف انجینئرنگ کے ہاسٹل کے اندر رکھا ہوا کیمرا ایک طالبہ کو ملا، جس کے بعد جمعرات کو طالبات نے کالج کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کیمپس میں اپنی حفاظت اور پرائیویسی کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا۔
طالبات کا کہنا تھا کہ انہیں انصاف چاہیے اور ویڈیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








