ذہنی تناؤ کم کرنا ہے یا سگریٹ چھوڑنی ہے؟ چین میں چسنی تھراپی کا رجحان وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

چین میں ایک انوکھا رجحان تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے جہاں بڑی عمر کے افراد ذہنی تناؤ سے نجات کے لیے بچوں جیسی چوسنیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ ایڈلٹ پیسیفائرز نہ صرف دباؤ کم کرنے بلکہ نیند کے مسائل حل کرنے اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہیں جو ایک غیر معمولی مگر دلچسپ نفسیاتی رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

گزشتہ سال سے یہ چوسنیاں چینی مارکیٹ میں عام ہوئیں جو بچوں کی چوسنیوں سے کچھ بڑے سائز میں تیار کی جاتی ہیں۔ ان کی قیمت 10 یوان (تقریباً 425 پاکستانی روپے) سے شروع ہوتی ہے، جو صارفین کے لیے سستی اور پرکشش ہے۔ بہت سے استعمال کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ چوسنیاں انہیں بچپن کے پرسکون لمحات کی یاد دلاتی ہیں اور نفسیاتی طور پر سکون فراہم کرتی ہیں، جو ذہنی دباؤ کے مقابلے میں ایک منفرد تجربہ ہے۔

ماہرین نے اس رجحان کے ممکنہ خطرات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ چینی ڈاکٹر تینگ کاؤمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان چسنیوں کا استعمال روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ کیا جائے تو یہ ایک سال کے اندر دانتوں کی ترتیب کو متاثر کر سکتا ہے منہ کھولنے میں درد اور کھانا چبانے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ رات کے وقت استعمال کے دوران چوسنی کا کوئی حصہ ٹوٹ کر سانس کی نالی میں جانے کا خطرہ بھی موجود ہے جو سانس کے اٹکاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہر نفسیات زینگ مو کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دراصل جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کی ایک غیر بالغ شکل ہے۔ ان کے مطابق، ذہنی تناؤ کا اصل حل بچپن کی عادات اپنانے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو نفسیاتی مشاورت اور صحت مند طرز زندگی پر توجہ دینی چاہیے۔

Related Posts