سندھ حکومت فنڈز نہیں دیگی تو نالے کیسے صاف ہونگے، ریحان ہاشمی

تازہ ترین

تازہ ترین

Chairman DMC Central
چیئرمین ریحان ہاشمی نے ضلع وسطی میں صفائی و ستھرائی کے عمل کو بلاناغہ قرار دیدیای

کراچی : ڈپٹی میئر کراچی ارشد حسن کی چیئر مین بلدیہ وسطی محمد ریحان ہاشمی، چیئرمین بلدیہ کورنگی سید نیئر رضا، چیئرمین بلدیہ غربی اظہار احمد، چیئرمین بلدیہ شرقی معید انورکے ہمراہ کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا کہ آج ہم اہل کراچی کی جانوں کو محفوظ کرنے کے لئے آواز اُٹھا نے آئے ہیں، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اس سال بیس فیصد زائد بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اربن فلڈنگ کو روکنے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے بالخصوص سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ واٹر کمیشن کی ہدایت پر چار سالوں میں صرف ایک بار برساتی نالوں کی صفائی کے لئے فنڈ دیا گیا تھا جو کراچی جیسے شہر کے لئے ناکافی ہے۔

چیئرمین ریحان ہاشمی نے کہا کہ واٹر بورڈ کی نااہلی کی وجہ سے برساتی نالے سیوریج نالوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور بارش کے دوران یہ برساتی نالے اوور فلو ہوجاتے ہیں ۔

سیوریج اور برسات کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوکر علاقہ مکینوں کے لیے پریشانی کا سبب بنتا ہے اورسیوریج کا ناقص نظام کراچی کی سڑکوں کو برباد کررہا ہے۔ فنڈز کی کمی اور اوزیڈٹی میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا مشکل پڑ گیا ہے۔

واضع رہے کہ گزشتہ چار سالوں میں ضلعی بلدیات نے ایک بھی بھرتی نہیں کی ہے، گریڈ ایک سے گریڈ چار تک کا اختیار دیا تھا لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی جبکہ پچھلے ادوار میں گریڈ ایک سے گریڈ 15 تک کی بھرتیوں کا اختیار ضلعی بلدیات کو میسر تھا۔

انہوں نے کہا اس دوران میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین ریٹائرڈ ہوئے اور دوران ملازمت انتقال کرگئے جس کی وجہ ملازمین کا بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے اور کام میں پریشانی کا سامنا ہے، حکومت اس مسئلے پر بھی سنجیدگی سے غور کرے۔

چیئرمین ریحان ہاشمی نے کراچی الیکٹرک کے عدم تعاون کے حوالے سے کہا کہ موجودہ حالات میں خاص طور پر پچھلی برسات میں ہونے والی اموات کی وجہ سے اور انسانی جانوں کو بچانے کے حوالے سے کراچی الیکٹرک نے جو اقدامات کئے اس میں خاص طور پر ارتھنگ کا معاملہ تھا،بلدیہ وسطی اور دیگر اضلاع نے اس حوالے سے کراچی الیکٹرک سے کوئی چارج نہیں کیا۔

دوسری جانب کراچی الیکٹرک نے مختلف علاقوں میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اسٹریٹ لائٹس کے کنکشن کاٹنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو اسٹریٹ کرمنلز کے رحم و کرم پر آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ ضلعی بلدیات کا بڑا حصہ کراچی الیکٹرک انر جی محکمے کے ذریعے کاٹ لیتا ہے۔ ضلع کورنگی کے ڈھائی کروڑ، ضلع وسطی کے 3کروڑ بیس لاکھ جبکہ ایسٹ اور غربی کے بھی ڈھائی سے تین کروڑ روپے ماہانہ کاٹتا ہے،تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی ایک وجہ کے الیکٹرک کی جانب سے کروڑوں روپے کاٹا جانابھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کلک پروگرام کے حوالے سے آگاہ تو کیا ہے لیکن اس کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ اگر سندھ حکومت بروقت فنڈ نہیں دے گی توبرساتی نالوں کی صفائی کا کام ممکن نہیں ہوسکے گا اور اربن فلڈنگ کی صورت میں شہر کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔

چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے حکومت سندھ اور وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا خصوصی نوٹس لیں تاکہ بارشوں کے دوران شہر کراچی کی عوام کو پریشانی سے بچایا جاسکے۔

چیئرمین بلدیہ شرقی معید انور نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے حوالے سے صوبائی و وفاقی حکومتوں کو سنجیدہ ہونا پڑے گا، پچھلے سال وفاقی وزیر آئے تھے تو کچھ کام ہوا لیکن اس کے بعد صورتحال پرانی ہی ہوگئی ہے، سندھ حکومت فنڈز نہیں دے گی تو نالے کیسے صاف ہونگے۔

زیادہ تر نالے کچی آبادیوں کے پاس ہیں، ہم نے چار سال اس لیے مشترکہ پریس کانفرنس نہیں کی کہ ہمیں کچھ امید تھی کہ معاملات بہتر ہوجائیں گے لیکن سندھ حکومت نے میٹھی گولیاں دیں۔

مزید پڑھیں:کراچی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، میئر نے نالوں کی صفائی کیلئے فنڈز مانگ لئے

ہم نے جو مشینری انکے ہینڈ اوور کیں وہ آج ورکشاپس میں ناکارہ حالت میں پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نالوں اور دیگر حوالوں سے تمام ارباب اختیار کو خطوط لکھے ہیں، سندھ حکومت نے ملاقاتیں اور یقین دہانیاں کیں لیکن حاصل حصول کچھ نہیں نکلا یہاں تک کہ جو پراپرٹی ٹیکس آتا تھا وہ بھی آنا بند ہوگیا ہے۔

Related Posts