اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریکوڈک کے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کا عمل مکمل کر لیا ہے، عدالتِ عظمیٰ کے 5 ججز نے اپنی رائے محفوظ کر لی۔
تفصیلات کے مطابق عدالتِ عظمیٰ میں ریکوڈک صدارتی پر سماعت آج مکمل ہوئی۔ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کر لی جو آئندہ ہفتے سنائی جائے گی۔
ریکوڈک کافیصلہ جلد نہ آیا تو10ارب ڈالر جرمانہ ہوگا
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل کی۔ صدرِ مملکت نے ریکوڈک معاہدے پر سپریم کورٹ کی رائے طلب کی تھی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ماہرینِ قانون نے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ میں ریکوڈک معاہدے پر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ 15 دسمبر تک یا جلد نہ آنے کی صورت میں پاکستان کو 10 ارب ڈالر جرمانے کا خدشہ ہے۔
ریکوڈک کے مقام پر پاکستان کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان کو 90 کی دہائی میں دریافت کیا گیا تھا، بلوچستان حکومت کے ساتھ غیر ملکی کمپنیوں کے ایک کنسورشیم نے سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے پر دستخط کردئیے تاہم معاہدے میں قانونی سقم تھا۔
سپریم کورٹ نے 2013 میں معاہدہ کالعدم قرار دیا جس پر غیر ملکی کمپنی اینٹو فیگسٹا نے پاکستان کے خلاف 2 عالمی فورمز سے رجوع کیا تھا جہاں پاکستان پر کم و بیش 6 ارب 50 کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ 2019 میں عالمی فوجداری عدالت نے بھی فیصلہ پاکستان کے خلاف دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








