اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر قاتلانہ حملے کے پیچھے مذہبی جنون کارِ فرما ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف حقیقی آزادی مارچ حملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے، اگر واقعے کو سیاست کی نذر کیا گیا تو تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں، ابتدائی تحقیقات میں نظر آرہا ہے کہ واقعے کے پیچھے مذہبی جنون کارفرما ہے۔
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ہیں، بینظیر بھٹو اور لیاقت علی خان واقعے کا آج تک جواب نہیں ملا، دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس تھانے کی حدود میں واقعہ ہوا، اس کے ملازمین برطرف کیے گئے، لاہور سے گوجرانوالہ تک آزادی مارچ میں 4 لوگ شہید ہوئے۔
عمران خان کو پارٹی چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست قابلِ سماعت قرار
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے شروع ہونے سے پہلے ہی خونی مارچ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں، ہم چاہتے ہیں حملہ آور اور اس کے پیچھے افراد بے نقاب ہونے چاہئیں، کل کے واقعے پر جے آئی ٹی بننی چاہیئے، جے آئی ٹیز کا تو (ن) لیگ نے بھی سامنا کیا، ان کو بھی کرنا چاہیئے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے خاندانی تعلق ہے ان کا احترام ہے، چوہدری پرویز الہٰی کے ہوتے ہوئے تھانے کے عملے کو لاہور منتقل کیا گیا، اس واقعے کے ملزموں تک پہنچنا چاہیئے، پاکستان کی عوام اب باشعور ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ واقعہ قوم کے لئےشرمندگی کا باعث ہے، عمران خان نے بار بار کہا کہ مجھے خون نظر آرہا ہے، توایسا ہی ہوا لاشیں گری ہیں، واقعے کو سیاست کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، وزیراعظم اور رانا ثناء کا نام لیا جارہا ہے، مشین گن اور پستول کے خول ملے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








