ٹی ایل پی کا لانگ مارچ مریدکے میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد ختم، متعدد مظاہرین گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

Religious party’s march ends in Muridke after violent clashes
ONLINE

اسلام آباد کی جانب بڑھنے والا تحریک لبیک پاکستان کا مارچ مریدکے میں اس وقت ختم کر دیا گیا جب مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایک پولیس انسپکٹر شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت بگڑی جب مشتعل کارکنوں کو آگے بڑھنے سے روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ جواباً پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی پرتشدد مظاہروں اور جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے پتھروں، کیلوں والے ڈنڈوں اور پٹرول بموں سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں کئی شہری اور اہلکار زخمی ہوئے۔ متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو قانون شکنی اور تشدد میں ملوث تھے۔

فیصل آباد میں ٹی ایل پی کارکنوں نے جڑانوالہ روڈ بند کر کے دھرنا دیا تاہم پولیس کی کارروائی کے بعد تین مظاہرین کو حراست میں لے کر سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

بوریوالا میں مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے ایک ڈی ایس پی سمیت آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ گوجرانوالہ میں بھی پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے انسدادِ بلوہ اقدامات کیے۔

 

اسی طرح لِیاقت پور، نارووال، فاروق آباد، چونیاں اور گھوٹکی سے بھی احتجاجی ریلیوں اور دھرنوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں مذہبی جماعت کے کارکن مریدکے مارچ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہوئے۔ مختلف شہروں میں پولیس نے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائیاں کیں۔

انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب جانے والے مرکزی راستوں پر اضافی سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان برقرار رہے۔ حکام نے مظاہرین کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کے راستے کو اپنائیں۔

مزید برآں سرکاری حکام نے خبردار کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں یا عوامی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Related Posts