عالم اسلام کے معروف دینی اسکالر علامہ یوسف القرضاوی 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
شیخ یوسف القرضاوی کے آفیشل ٹویٹر اور فیس بک پیج نے آج پیر کو 96 سال کی عمر میں ان کی وفات کا اعلان کیا۔ موت کے بیان میں کہا گیا ہے: “وہ خدا کی رحمت کے پاس چلے گئے۔” القرضاوی ایک مصری ازہری عالم ہیں جن کے پاس قطری شہریت ہے۔
انتقل إلى رحمة الله سماحة الإمام يوسف القرضاوي الذي وهب حياته مبينا لأحكام الإسلام، ومدافعا عن أمته.. نسأل الله أن يرفع درجاته في عليين، وأن يلحقه بالنبيين والصديقين والشهداء والصالحين.. وحسن أولئك رفيقا. وأن يجعل ما أصابه من مرض وأذى رفعا لدرجاته.. اللهم آمين pic.twitter.com/euoUztZeMQ
— يوسف القرضاوي (@alqaradawy) September 26, 2022
بزرگ عالم دین امام یوسف القرضاوی خدا ان پر رحم کرے، جنہوں نے اپنی زندگی اسلام کے احکام کی وضاحت کرنے اور اپنی قوم کے دفاع کے لیے پیش کی اور ان کو جو بیماری اور تکلیف جو پہنچی ان کے درجات کو بلند ہونے کا سبب بن جائے۔ آمین ثم آمین۔
علامہ یوسف القرضاوی ایک نِڈر عالم دین، مربی، فقیہ، مجاہد، شاعر اور ادیب تھے۔ آپ کی شخصیت مختلف کمالات کا مجموعہ تھی۔ حق گوئی، مظلومین کی تائید اور ظلم کے خلاف جدو جہد علامہ کی شخصیت کے بنیادی عناصر تھے ۔
شیعہ سنی دوریوں کو ختم کرنے کی کوششیں کرتے رہے. انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدو جہد میں صرف کی۔
شیخ یوسف قرضاوی بین الاقوامی مسلم اسکالرز کے چیئرمین تھے ۔ وہ 9 ستمبر 1926 کو پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے الازہر یونیورسٹی سے 1944 سے 1958 تک تعلیم حاصل کی ۔
شیخ یوسف قرضاوی نے متعدد کتابیں لکھیں ۔ جن میں شہرہ آفاق کتب میں اسلام مسلمان اور غیر مسلم ‛ اخوان المسلمون کا تربیتی نظام ‛ اسلامی نظام ایک فریضہ ایک ضرورت ‛ اسلام میں عبادت کا حقیقی مفہوم ‛ امام مودودی ایک مصلح ایک مفکر ایک مجدد ‛ ایمان اور زندگی ‛ خرابی کہاں ہے ‛ تحریک اسلامی کی ترجیعات ‛ فکری تربیت کے اہم تقاضے ‛ وقت کی اہمیت سمیت دیگر کتابیں شامل ہیں ۔
علامہ یوسف قرضاوی نے مصر کے منتخب صدر خلاف فوجی انقلاب کے حرام ہونے کا فتوی دیا تھا اور منتخب صدر کی دوبارہ قانونی طور پر بحالی ار باز ماموری کی بات کہی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مصر کے منتخب صدر کیخلاف بغاوت اور انقلاب غیر شرعی ہے ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








