ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ تو ریکارڈ کیا گیا ہے، لیکن ستمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں تشویشناک کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ انکشاف وزارت خزانہ کی اکتوبر 2025 کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں منگل کو کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) میں 55.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو ستمبر 2024 کے 417.4 ملین ڈالر سے کم ہو کر ستمبر 2025 میں 185.6 ملین ڈالر رہ گئی۔ مجموعی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری میں 64.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ حالیہ سیلاب اور عارضی سرحدی بندشوں نے بعض ضروری اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے، مہنگائی کو ہدف کے اندر رکھنے اور کمزور طبقوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے عزم کو دہرایا۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق، حالیہ سیلاب سے زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوا، جس سے چاول، کپاس، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم بحالی کی کوششیں جاری ہیں جن میں زرعی قرضوں میں اضافہ، زرعی مشینری کی درآمدات میں بہتری، اور کھاد کے بہتر استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (LSM) میں جولائی تا اگست مالی سال 2026 کے دوران 4.4 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ ستمبر میں مہنگائی کی شرح 3 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد ہو گئی۔ جولائی تا ستمبر اوسط مہنگائی 4.2 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 9.2 فیصد شرح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
وفاقی محصولات میں زبردست بہتری آئی، جو 231 فیصد بڑھ کر 3,269 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ غیر ٹیکس آمدن میں 721 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو زیادہ تر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع، پیٹرولیم لیوی، گیس سیس، اور دفاعی محصولات کی بدولت ہوا۔ اخراجات میں صرف 7.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو 1,509 ارب روپے کا مالیاتی سرپلس حاصل ہوا، جب کہ گزشتہ سال 648 ارب روپے کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کرنٹ اکاؤنٹ میں جولائی تا ستمبر کے دوران 594 ملین ڈالر کا خسارہ دیکھا گیا، تاہم ستمبر میں 110 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ ہوا۔ برآمدات میں 6.5 فیصد اور درآمدات میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر 8.4 فیصد بڑھ کر 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں سعودی عرب کا حصہ 24.2 فیصد اور متحدہ عرب امارات کا 20.8 فیصد رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








