ایرانی پاسداران انقلاب کی مقتول ایکٹوسٹ کے اہلِ خانہ پرفائرنگ، لاش قبضے میں لے لی

تازہ ترین

تازہ ترین

ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے اہل خانہ پر فائرنگ کردی اوراس کی لاش ہسپتال سے قبضے میں لے لی ہے۔

ناروے میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ہنگاؤ نے کہا ہے کہ گذشتہ شب پاسداران انقلاب کی فورسز نے بوکان میں شہید گھولی پور ہسپتال پر حملہ کیا اور وہاں سے احتجاجی مظاہرے میں ہلاک ہونے والے شخص شہریار محمدی کی لاش قبضے میں لے لی اورانھیں خفیہ طور پر دفن کر دیا۔

ایران کے کردعلاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرنظر رکھنے والے ہنگاؤنے اے ایف پی کو بتایا کہ ایرانی فورسز نے مقتول ے اہل خانہ پر فائرنگ کی اور کم از کم پانچ افراد کوزخمی کردیا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اور کارکنان ایران کی سکیورٹی فورسز پرالزام عاید کرتے ہیں کہ وہ اپنی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی خفیہ تدفین کررہی ہیں تاکہ ان کے جنازوں پر مزید تشدد کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

ہنگاؤنے ہفتے کے روزبتایا کہ سکیورٹی فورسز نے صوبہ کردستان میں واقع قصبے دیواندرے میں بھی مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

ایران نے برطانیہ، اسرائیل اور امریکا سمیت اپنے غیر ملکی دشمنوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 16 ستمبر کوکرددوشیرہ مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے ہونے والے مظاہرے ملک میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

کرد نژاد 22 سالہ ایرانی خاتون مہسا امینی کوایران میں لازمی حجاب پہننے کے قانون کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ بدنام زمانہ اخلاقی پولیس کے زیرحراست اپنی گرفتاری کے تین روزبعد انتقال کر گئی تھیں۔

ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ملک میں افراتفری اور تشدد کے غیرملکی پشتی بانوں کی دانستہ خاموشی پر تنقید کی ہے جبکہ حالیہ دنوں میں ایران کے کئی شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی کارروائیاں بھی ہوئی ہیں۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی برادری اورعالمی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی مذمت کریں اور انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کریں۔

سرکاری میڈیا اور اسپتال کے ذرائع کے مطابق بدھ کو دو شہروں ایذہ ہ اور اصفہان میں دو الگ الگ حملوں میں ایک خاتون، دو بچوں اور ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران کے شمال مشرقی شہرمشہد میں حکومت کی نیم فوجی فورس بسیج کے دوارکان کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کردیاگیا،حملے کے وقت وہ ‘فسادیوں’ کے خلاف کارروائی کی کوشش کر رہے تھے۔

Related Posts