صادق آباد میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد 20 ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 1 کروڑ مقرر کی گئی ہے۔ ایک خطرناک ڈاکو نے محکمہ داخلہ کو فون کیا اور احتجاجی ویڈیو بھی جاری کردی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 10 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ کر دی ہے جس کے بعد ڈاکو شاہد لوند نے ویڈیو جاری کردی۔ ویڈیو بیان میں ڈاکو نے کہا کہ رحیم یار خان کے تھانہ ماچھکہ میں 12 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
ویڈیو بیان میں ڈاکو شاہد لوند نے کہا کہ ہم نیوز چینل دیکھ رہے تھے اور بار بار جھوٹ کی بنیاد پر خبریں دے رہے تھے۔ انہوں نے پنجاب اور سندھ کے ڈاکوؤں کی ایک پوسٹ بنائی۔ سر کی قیمت 1 کروڑ مقرر کردی گئی ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
بیان میں ڈاکو نے کہا کہ جب تک اللہ نہ چاہے، کوئی کسی کو مار نہیں سکتا۔ ہم اس نمبر پر رابطہ کرتے ہیں۔ ڈاکو نے محکمہ داخلہ پنجاب کے نمبر پر کال کی اور کہا کہ میرا نام لسٹ میں کیوں ڈالا گیا ہے؟میں کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے میں شامل نہیں ہوں۔
ڈاکو نے کہا کہ جن ڈاکوؤں نے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا، ان میں سے کسی کا نام اشتہار میں موجود نہیں، محکمہ داخلہ نئی لسٹ جاری کرے۔ پولیس اہلکاروں کی گاڑی پھنس گئی تھی، ڈیڑھ گھنٹے تک مدد مانگتے رہے لیکن کسی نے مدد نہ کی، پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








