قطر نے جنگِ ایران کے آغاز کے بعد پہلی بار مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کھیپ آبنائے ہرمز کے راستے روانہ کر دی ہے جو اب کراچی کے پورٹ قاسم پر پیر 11 مئی کو پہنچنے کے لیے سفر کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ال خریطیات نامی ایل این جی ٹینکر جس کا رجسٹرڈ نمبر آئی ایم او 9397327 ہے اور جو مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے چل رہا ہے قطر کے شہر راس لفان سے روانہ ہوا تھا۔ یہ جہاز کمپنی نیکلات کی ملکیت اور انتظام میں ہے اور اس نے ایران کی اجازت سے بنائے گئے شمالی بحری راستے سے سفر کیا جو قشم اور لارا ک جزائر کے قریب ایرانی ساحل کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے۔
اس جہاز کی گنجائش تقریباً 2 لاکھ 12 ہزار مکعب میٹر ہے اور اس وقت یہ خلیج عمان میں موجود ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ پیر کی صبح 4 بج کر 49 منٹ (پاکستانی وقت) پر کراچی کے قریب پہنچ جائے گا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ قطر کی ایل این جی کھیپ جنگ کے بعد دوبارہ آبنائے ہرمز سے گزر رہی ہے کیونکہ فروری کے آخر میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اس سمندری راستے میں عملی طور پر رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔
اس سے قبل بھی اپریل میں ایک کوشش کی گئی تھی مگر بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث وہ سفر مکمل نہ ہو سکا اور جہاز کو واپس لوٹنا پڑا۔ جنگ سے پہلے قطر عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا تھا لیکن راس لفان کے بعض تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس کی برآمدات شدید متاثر ہوئی تھیں۔
ایران کی جانب سے اس جہاز کو گزرنے کی اجازت کو سفارتی سطح پر اعتماد بحال کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کھیپ قطر اور پاکستان کے درمیان حکومتی سطح کے معاہدے کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں گیس کی کمی کو پورا کرنا ہے۔
اگرچہ اس اقدام کو توانائی کی ترسیل میں جزوی بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک منظور شدہ سفر ہے اور اس سے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا عندیہ نہیں ملتا۔ اس حوالے سے قطر انرجی یا نیکلات کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








