روس کے دور دراز علاقے کامچٹکا میں واقع 500 سال سے خاموش آتش فشاں Krash-e-neni-kov اچانک پھٹ گیا جس نے ماہرین اور مقامی انتظامیہ کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ شدید زلزلے کے چند دن بعد پیش آیا جس کی شدت 8.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کی طاقتور لہریں زمین کے اندرونی دباؤ کو متحرک کرنے کا باعث بنی، جس کے نتیجے میں کئی صدیوں سے سویا ہوا یہ آتش فشاں بیدار ہوگیا۔
سرکاری حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس پھٹنے سے آس پاس کی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوا اور روسی حکام نے سونامی کی وارننگ بھی واپس لے لی ہے۔
کامچٹکا کا یہ آتش فشاں اپنی طویل خاموشی کے بعد اچانک پھٹنے سے عالمی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جو قدرت کی طاقت اور فطرت کے اسرار کو دوبارہ سے سامنے لا رہا ہے۔
روسی حکام اور ماہرین اس موقع پر چوکنا ہیں تاکہ ممکنہ مزید قدرتی آفات سے قبل بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








