روس نے افغانستان میں باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Russia officially recognizes Taliban’s government in Afghanistan
FILE PHOTO

روس نے افغانستان میں باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے جسے افغان حکام نے ایک دلیرانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

طالبان نے 2021 میں حکومت کو ہٹا کر دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا اور اس کے بعد ملک میں سخت اسلامی قوانین نافذ کیے ہیں۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کابل میں روس کے سفیر دمتری ژرنوف سے ملاقات کی۔

ملاقات کی ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کی گئی جس میں امیر خان متقی نے کہا کہ یہ دلیرانہ فیصلہ دوسروں کے لیے ایک مثال بنے گا، اب جبکہ افگان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیے جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، روس سب سے آگے رہا۔

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان ضیاء احمد تکال نے بھی فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ روس پہلا ملک ہے جس نے اسلامی امارت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

روس کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کو بتایا کہ روسی حکومت نے طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا ہے جبکہ وزارت خارجہ نے بھی سرکاری خبر رساں ادارے تاس کو اس فیصلے کی تصدیق کی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان کے سفارتکار گل حسن نے ماسکو میں افغانستان کے سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔

روس نے اپریل 2025 میں طالبان کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے نکال دیا تھا اور ان کے نمائندوں کو سرکاری تقریبات میں مدعو کرنا شروع کیا تھا، جسے تعلقات کی بحالی کے اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد روس پہلا ملک تھا جس نے کابل میں تجارتی نمائندہ دفتر کھولا اور اب وہ افغانستان کو جنوب مشرقی ایشیا کے لیے گیس ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

جولائی 2024 میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے طالبان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتحادی قرار دیا تھا جو اس بدلتی ہوئی پالیسی کا اہم اشارہ تھا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ طالبان کے 1996 سے 2001 تک کے پہلے دورِ حکومت میں صرف تین ممالک سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے انہیں باضابطہ تسلیم کیا تھا۔

اس بار چین اور پاکستان جیسے ممالک نے اگرچہ طالبان کے سفیروں کو قبول کیا ہے تاہم اب تک کسی نے بھی رسمی طور پر اسلامی امارت کو تسلیم نہیں کیا۔

عالمی سطح پر طالبان کے ساتھ روابط محدود رہے ہیں لیکن خطے کے ممالک بالخصوص چین اور روس نے آہستہ آہستہ ان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔

خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں اب بھی مغربی ممالک کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

Related Posts