کراچی کے علاقے لیاری میں جمعہ کے روز رہائشی عمارت کے منہدم ہونے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہو گئے، ریسکیو اداروں کے مطابق عمارت کا ملبہ کئی شہریوں پر آن گرا جنہیں نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کر دی گئیں۔
یہ افسوسناک واقعہ لیاری کے بغدادی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک بوسیدہ رہائشی عمارت اچانک منہدم ہو گئی۔ چھیپا ویلفیئر کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک پانچ افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 20 سے 25 کے قریب افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ریسکیو ٹیموں، فائر بریگیڈ، رینجرز اور پولیس کی نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور متاثرہ عمارت کے ملبے سے زندہ افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ امدادی کاموں کے لیے ہیوی مشینری، کرین اور اسنارکل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق عمارت کے ساتھ واقع ایک اور رہائشی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ متعلقہ ادارے اس عمارت کو بھی فوری خالی کروانے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ عمارت میں کریکس پہلے سے موجود تھے اور مکینوں نے متعدد بار متعلقہ اداروں کو اس بارے میں شکایات بھی کی تھیں، تاہم کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
یاد رہے کہ صرف چار روز قبل کراچی کے کھارادر علاقے میں بھی ایک چھ منزلہ رہائشی عمارت کے درمیانی راہداری کی چھت گر گئی تھی جس سے عمارت کے کئی حصے متاثر ہوئے تھے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم یہ حادثہ ایک وارننگ تھا جسے نظرانداز کر دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں بوسیدہ اور غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ایسے حادثات مستقبل میں بھی پیش آ سکتے ہیں اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے۔
ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں جبکہ قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








