روانڈا اور کانگو میں ٹرمپ کے امن معاہدے کے دوسرے دن پھر شدید لڑائی، 23 افراد ہلاک

تازہ ترین

تازہ ترین

روانڈا اور کانگو
(فوٹو: آن لائن)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگو اور روانڈا کے مابین امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں دیرینہ تنازعے کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے امن معاہدے پر دستخط کیے گئے، تاہم معاہدے پر دستخط کے دوسرے ہی روز جمہوریہ کانگو کے 23اہم باغی اور سرکاری فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران 23افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جھڑپوں کی ذمہ داری دونوں فریقین ایک دوسرے پر عائد کررہے ہیں، تاہم باغی گروپ ایم 23 کا دعویٰ ہے کہ کانگولیز فوج نے گولہ باری کرکے 23افراد کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔ ترجمان لارنس کانیوکا نے کہا کہ فوج نے شمالی و جنوبی کیوو میں گنجان آباد علاقوں پر ڈرونز اور بھاری توپ خانے سے بمباری کے علاوہ فضائی حملے بھی کیے۔

دوسری جانب ترجمان کانگو افواج کا کہنا ہے کہ جنوبی کیوو کے علاقے کازیبا، کاتوگوٹا اور رورامبو کے اطراف میں شدید لڑائی ہوئی۔ روانڈا ڈیفنس فورسز کی گولہ باری کے باعث لوونگی کے علاقوں سے عوام نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

اس حوالے سے روانڈہ کے ضلع روسی زی کے عہدیدار فانوئل سینڈائی کا کہنا ہے کہ 700 سے زائد کانگولیز شہری روانڈا پہنچ گئے جن میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ انہیں عارضی پناہ گزین کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ بے گھر افراد اپنے مال و اسباب، مویشی اور اہل خانہ کو ساتھ لے کر بکرما، کامانیولا سرحد کی جانب منتقل ہونے لگے۔ اقوامِ متحدہ نے اعتراف کیا ہے کہ رواں برس جولائی سے اکتوبر کے مابین کانگو میں جاری کشیدگی اور شدید جھڑپوں کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات نے 1 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کو بے گھر کردیا ہے۔

Related Posts