روس کے مشرقی ساحلی علاقے کمچاٹکا میں 8.8 شدت کے زلزلے نے نہ صرف خطے کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ جاپان میں سونامی کی وارننگ جاری ہونے کے بعد ایک دہائیوں پرانی پیشگوئی کو بھی سچ ثابت کر دیا۔
جاپانی مانگا آرٹسٹ ریو تاتسوکی کی مشہور گرافک ناول دی فیوچر آئی سا (مستقبل، جو میں نے دیکھا) ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، جس میں جولائی 2025 میں جاپان پر آنے والی قدرتی آفت کی پیشگوئی کی گئی تھی۔
یہ مانگا، جو پہلی بار 1999 میں شائع ہوئی اپنی حیرت انگیز طور پر درست پیشگوئیوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس ناول میں نہ صرف مارچ 2011 کے تباہ کن زلزلے اور سونامی کی پیشگوئی کی گئی تھی بلکہ لیڈی ڈیانا اور فریڈی مرکری کی اموات اور کورونا وائرس کی وبا جیسے عالمی واقعات بھی اس کے صفحات میں درج ہیں۔مانگا میں 5 جولائی 2025 کو جاپان کے لیے سونامی کے خطرے کی بات کہی گئی تھی لیکن جب یہ تاریخ بغیر کسی بڑے واقعے کے گزر گئی تو لوگوں کا اس پیشگوئی پر یقین کمزور پڑ گیا۔
آج صبح روس کے کمچاٹکا جزیرہ نما میں آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے نے حالات کو یکسر بدل دیا۔ زلزلے کے فوراً بعد جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو اور روس کے کوریل جزائر سمیت بحرالکاہل کے متعدد ساحلی علاقوں میں سونامی کی وارننگ جاری کی گئی۔ جاپان کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا کہ ساحلی علاقوں میں تین میٹر تک بلند لہریں اٹھ سکتی ہیں، جبکہ ہوکائیڈو کے شہر نیمورو میں ایک فٹ بلند سونامی لہر ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی، جہاں صارفین ریو تاتسوکی کی پیشگوئی کو خوفناک حد تک درست قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ریو تاتسوکی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ان کی بصیرت حیرت انگیز ہے۔ جاپان محفوظ رہے، اگرچہ سائنسدان زور دیتے ہیں کہ زلزلوں کی پیشگوئی ممکن نہیں لیکن اس واقعے نے مانگا کی پیشگوئی کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
ریو تاتسوکی نے خود اس پیشگوئی کے بارے میں کہا تھا کہ وہ کوئی نبی نہیں ہیں اور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ماہرین کے مشوروں پر عمل کریں۔ تاہم، آج کے واقعات نے ان کے مداحوں کے جوش کو مزید بھڑکا دیا ہے، جو اسے ایک غیر معمولی اتفاق سے زیادہ سمجھ رہے ہیں۔ جاپان جو رنگ آف فائر نامی زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے اب بھی ممکنہ آفٹر شاکس اور سونامی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








