امریکا: سان ڈیاگو مسجد میں دوسروں کی خاطر جان دینے والے سکیورٹی گارڈ کی ایمان افروز داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع ایک مسجد میں فائرنگ کے المناک واقعے میں جان گنوانے والے سیکیورٹی گارڈ کے قریبی دوست نے ان کے کردار، محبت اور بہادری کے آخری لمحات کو یاد کرتے ہوئے اایسی ایمان افروز اور دردناک داستان بیان کی کہ سننے والے آبدیدہ ہوگئے۔

مرحوم سیکیورٹی گارڈ کے  قریبی دوست سیم حمیدہ نے آبدیدہ ہو کر امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امین عبداللہ محض ایک محافظ نہیں تھے بلکہ 8 بچوں کے نہایت محبت کرنے والے والد اور اپنے اردگرد کے ہر فرد کیلئے ہمدردی رکھنے والے ایک باکردار انسان تھے۔ انہوں نے مسجد میں موجود نمازیوں اور ننھے بچوں کی جانیں بچانے کیلئے اپنی زندگی قربان کر دی۔

سیم حمیدہ کے مطابق امین عبداللہ کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی، وہ جب بھی کسی سے ملتے تو اپنے نرم مزاج اور خوش اخلاقی سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتے۔ ان کے اندر ایک غیرمعمولی سکون اور یہ یقین پایا جاتا تھا کہ ہر مشکل میں اللہ بہتر راستہ نکالے گا، وہ نہایت رحم دل اور مضبوط ایمان کے حامل انسان تھے۔

مسجد کے اندر ایک تعلیمی ادارہ بھی قائم ہے جہاں نرسری سے تیسری جماعت تک کے بچے زیرِ تعلیم ہیں، اور افسوسناک واقعے کے وقت سیم حمیدہ کا ایک بیٹا بھی انہی کلاسوں میں موجود تھا اور جب بھی وہ یا ان کی اہلیہ بچے کو اسکول چھوڑنے آتے تو امین عبداللہ خوش دلی سے گاڑی کے قریب آ کر استقبال کرتے۔ سانحے والے دن بھی ان کی اہلیہ نے جاتے ہوئے کہا تھا کہ امین کو میری طرف سے سلام کہنا۔

سیم حمیدہ نے رنجیدہ آواز میں کہا کہ انہیں ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ یہ سلام ان کا آخری الوداعی سلام ثابت ہوگا، اور یہی خیال ان کے دل کو اندر سے توڑ رہا ہے۔فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی اپنے بچے کی استاد سے رابطہ کرنے کے بعد سیم حمیدہ نے دوسری کال فوراً امین عبداللہ کو کی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ہر صورت حالات کو سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔

اپنے دوست کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے امین عبداللہ جانتے تھے کہ وہ بچوں کو بچانے کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں، کیونکہ اگر وہ حملہ آور کے سامنے ڈٹ کر گولی اپنے سینے پر نہ لیتے تو وہ شخص آسانی سے اوپر جا کر بچوں تک پہنچ سکتا تھا۔

اشکبار آنکھوں کے ساتھ سیم حمیدہ نے کہا کہ یہ سوچ کر دل دہل جاتا ہے کہ ایک ایسا انسان بھی دنیا میں تھا جو دوسروں کے بچوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کرنے پر آمادہ ہوگیا، تاکہ دوسرے والدین اپنے بچوں کو دوبارہ گلے لگا سکیں، مگر افسوس وہ خود کبھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹے گا، بلکہ اب اس کے اپنے آٹھ معصوم بچے اسے سپردِ خاک کریں گے، اور یہ درد قابلِ برداشت نہیں ہے۔

مسجد پر حملہ کس نے کیا؟

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں یپر کے روز فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں 3افراد جاں بحق جبکہ 2مشتبہ حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔ سان ڈیاگو پولیس چیف کا کہنا تھا کہ پولیس نے فائرنگ کی اطلاع موصول ہونے پر کارروائی کی اور مرکز کے باہر سے 3افراد کی لاشوں کو برآمد کیا۔

ڈائریکٹر اسلامک مرکز امام طحہٰ حسن کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں ایک سکیورٹی گارڈ اور اسلامی اسکول کے عملے کے 2 اراکین شامل تھے۔ پولیس کے مطابق 17 سے 19سالہ 2 مشتبہ حملہ آوروں کو قریب ہی کھڑی ایک گاڑی میں مردہ پایا گیا۔ دونوں نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔

Related Posts