ممبئی:بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے کہا ہے کہ ماں بننے کے بعد بھی خواتین اپنے خواب پورے کرسکتی ہیں،اس سال ٹوکیو میں ہونے والے چوتھے اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے خواب نے ایک سال کے وقفے کے بعد ڈبلیو ٹی اے سرکٹ میں واپس آنے کے لئے حوصلہ دیا۔
آندرے کلیپیک کے ساتھ جوڑی بنانے والی ثانیہ مرزا قطر اوپن میں خواتین کے ڈبلز میں سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہیں، 34 سالہ ثانیہ مرزا کاکہنا ہے کہ وہ 2016 میں اولمپک کانسی کے تمغے کے پلے آف میچ میں ہونے والی شکست کا بدلہ لینا چاہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب میں اپنی زندگی کے اس باب کو بند کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اولمپک میڈیل ایسی چیز ہے جسے میں جیتنا پسند کروں گی لہٰذا میں اس کیلئے خود کو ایک اور موقع دینا چاہتی ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ میں میڈل جیت سکتی ہوں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا لیکن یہ میرے لئے بہت اہم ہے اور یہ میرے لئے واپس آنے کا محرک تھا۔اکتوبر 2018 میں ماں بننے والی ثانیہ مرزا نے یہ بھی کہا کہ وہ خواتین کو ان کے خوابوں کا پیچھا کرنے کے لئے تحریک دینے کے لئے متحرک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ایک طرح سے سوچتی ہیں کہ ایک بار ان کے بچے ہونے کے بعد انکی زندگی ختم ہوجاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے،آپ کو اپنے خوابوں کو کچلنے کی ضرورت نہیں ہے ،آپ ماں بن کر بھی اپنے خواب پورے کرسکتی ہیں۔