سینیٹ الیکشن کے نتائج اور اعتماد کا ووٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک میں سینیٹ الیکشن کا معاملہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے لیکن سیاسی ماحول ابھی بھی اپنے نقطہ عروج پر ہے، پچھلے کچھ دنوں میں متعدد سیاسی واقعات دیکھنے میں آئے ،حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے گئے ، ووٹوں کی خرید و فروخت کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کی وجہ سے حکومت کو کھل کا تنقید کرنے کا موقع ملا لیکن اس سب کے باوجود اسلام آباد میں حکمران جماعت کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

سینیٹ کے انتخابات میں ٹکٹوں کے اجراء کے دوران تحریک انصاف کو شدیدتنازعات کا سامنا کرنا پڑا اور پارٹی میں دھڑے بندی کا عنصر غالب رہا پارٹی کے بہت سارے قانون سازوں نے ٹکٹوں کی تقسیم پربرہمی کا اظہار کیا اور عہد شکنی کرتے ہوئے منتخب امیدواروں کے خلاف ووٹ دینے کا عزم ظاہر کیا۔ اس کا مشاہدہ سندھ میں بھی ہوا جہاں تحریک انصاف نے اپنی نشستیں توجیت لیں لیکن کم ووٹ ملے۔ پارٹی نے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس معاملے کا فوری حل ممکن نہیں ہے۔

پنجاب تمام امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہوچکے تھے اس لئے پنجاب میں ماحول پرسکون رہا تاہم یہاں بھی کسی خفیہ سودے بازی کی شدید قیاس آرائیاں اٹھائیں ہوتی رہیں،خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایک اضافی نشست حاصل کی۔ پی ٹی آئی اب اٹھارہ نئی نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس کی کل تعداد 26 ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی دوسری بڑی جماعت ہے کیونکہ اس نے آٹھ نئی سیٹیں حاصل کیں جبکہ مسلم لیگ (ن) تیسری بڑی جماعت بن چکی ہے۔

سب سے زیادہ سنسنی خیز صورتحال اسلام آباد میں پیش آئی جہاں حکومتی اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار حفیظ شیخ مشترکہ اپوزیشن اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی سے ہار گئے۔ سابق وزیر اعظم نے الیکشن جیت کر حکومت کو گہرے صدے سے دوچار کردیا ہے اور اس انتخابی نتیجے کے بعد حفیظ شیخ کا بطور مشیر خزانہ مستقبل زیادہ واضح ہیں ہے کیونکہ غیر منتخب ہونے کی وجہ سے ان کو مشکلات درپیش آتی رہیں گی اور عین ممکن ہے کہ ان کو یہ عہدہ چھوڑنا بھی پڑسکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں قومی اسمبلی میں غیر متوقع شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بھی ایک سیاسی چال ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان اعتماد کا ووٹ لیکر فوری طور پراپوزیشن کے دباؤ کو کم کرسکتے ہیں۔

اپوزیشن چاہتی ہے کہ وزیر اعظم سینیٹ الیکشن میں شکست کے بعد استعفیٰ دیدیں لیکن وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ میدان نہیں چھوڑیں گے اور اب اعتماد کا ووٹ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا عمران خان وزیر اعظم کے عہدے پر رہیں گے یا نہیں۔

حکومت نے انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکامی کے لئے الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور اصلاحات کی ضرورت پرزوردیا ہے اور اپنے ووٹ اور ضمیر فروشی کرنے والوں سے مکمل تفتیش کا عندیہ دیا ہے جبکہ اب اعتماد کے ووٹ پر پوری توجہ دی جارہی ہے جس کے بعد چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا جس میں اپوزیشن مشترکہ امیدوار کھڑا کرکے میدان مار سکتی ہے۔

Related Posts