ریاض: سعودی حکومت نے لاک ڈاؤن نرم کردیا، سرزمینِ حجاز میں 7 ماہ بعد عمرے کی ادائیگی شروع ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے عمرے اور حج کی ادائیگی پر گزشتہ 7 ماہ سے پابندی عائد کر رکھی تھی جس کا مقصد کورونا وائرس کی روک تھام تھی، یہ پابندی آج سے ہٹا دی گئی ہے۔
سعودی حکومت نے ایس او پیز کی سخت پابندی کرتے ہوئے کورونا وائرس کیسز پر قابو پایا جس کے بعد پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ عمرے پر عائد پابندی 3 مراحل میں ختم کی جائے گی۔
ابتدائی مرحلے کے تحت صرف 6 ہزار سعودی شہریوں اور غیر ملکی رہائش پذیر افراد کو سعودی عرب میں عمرہ ادا کرنے کی اجازت ہوگی۔ عازمین کو عمرے کی ادائیگی کیلئے صرف 3 گھنٹے کا وقت دیا جائے گا۔
مکۃ المکرمہ میں عازمینِ عمرہ کو سماجی فاصلہ یقینی بنانے کیلئے گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ آپس میں مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے عازمینِ عمرہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کرسکیں گے۔
خانۂ کعبہ دُنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی مرکز ہے جس کے اردگرد طواف کیلئے زائرین سماجی فاصلے کی پابندی سے بنائے گئے دائروی راستے پر چلیں گے۔ 18 اکتوبر سے زائرین کی تعداد بڑھا کر 15 ہزار یومیہ کردی جائے گی۔
یکم نومبر سے بیرونِ ملک سے بھی مسلمانوں کو سعودی عرب آ کر عمرے کی ادائیگی کی اجازت ہوگی۔ عمرے کیلئے زائرین کی تعداد 20 ہزار رکھی جائے گی جبکہ 60 ہزار افراد مسجد الحرام میں نماز ادا کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کورونا ایس او پیز کی سختی سے پابندی کریں۔وزیرِ اعظم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








