سعودی عرب میں 3 دنوں سزائے موت پانے والے 17 غیر ملکی کون تھے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Saudi executions soar to 17 in three days
FILE PHOTO

ریاض: سعودی عرب میں محض تین دن کے اندر 17 افراد کو سزائے موت دیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے دو افراد کو پیر کے روز دہشت گردی سے متعلق جرائم میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سزاؤں کا یہ سلسلہ مملکت کی تاریخ میں سزائے موت کے ایک نئے ممکنہ ریکارڈ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

ہفتہ اور اتوار کے روز 15 افراد کو سزائے موت دی گئی جن میں اکثریت غیر ملکی افراد کی تھی۔ ان افراد کو منشیات اسمگلنگ، خاص طور پر چرس اور کوکین کی اسمگلنگ کے الزامات پر سزا دی گئی۔

یہ رفتار مارچ 2022 کے بعد سب سے تیز ہے، جب ایک ہی دن میں 81 افراد کو دہشت گردی سے متعلق جرائم میں سزائے موت دی گئی تھی جس پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سعودی عرب میں اب تک 239 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے جن میں 161 افراد منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث تھے جبکہ مجموعی طور پر 136 غیر ملکیوں کو یہ سزا دی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو سے وابستہ جید بسیونی نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ چرس سے متعلق مقدمات میں سزاؤں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور ان میں زیادہ تر غیر ملکی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت تشویشناک ہے جب دنیا بھر میں چرس کے استعمال اور اس کی ذاتی ملکیت کو جرم کے دائرے سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان سزاؤں میں اضافے کا تعلق سعودی عرب میں 2023 میں شروع کی گئی منشیات کے خلاف جنگ سے ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئیں اور اب وہ مقدمات اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔

سعودی عرب نے 2022 کے آخر میں منشیات سے متعلق سزائے موت کا دوبارہ آغاز کیا، جو تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد کیا گیا۔

حکام کا مؤقف ہے کہ سزائے موت صرف ان افراد پر لاگو کی جاتی ہے جنہوں نے اپیل کے تمام مواقع استعمال کر لیے ہوتے ہیں، اور یہ سزائیں معاشرے کے تحفظ اور منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے مسلسل استعمال سے سعودی عرب کے اُس بین الاقوامی امیج کو نقصان پہنچ رہا ہے جو ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت ایک زیادہ کھلے اور جدید معاشرے کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Related Posts