سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھیں، یہ دعویٰ نیویارک ٹائمز نے منگل کو اپنی رپورٹ میں کیا۔
رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان اس صورتحال کو مشرقِ وسطیٰ کو نئے سرے سے تشکیل دینے کا ایک “تاریخی موقع” سمجھتے ہیں۔ امریکی حکام کو دی گئی بریفنگ سے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو پیغام دیا کہ ایران کی “سخت گیر” حکومت کے خاتمے تک دباؤ جاری رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق ولی عہد نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایران خلیجی ممالک کے لیے ایک طویل مدتی خطرہ ہے، جسے صرف موجودہ حکومت کے خاتمے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ولی عہد نے جنگ کو طول دینے پر زور دیا ہے۔ سعودی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ مملکتِ سعودی عرب نے ہمیشہ اس تنازع کے پرامن حل کی حمایت کی ہے، حتیٰ کہ اس کے آغاز سے پہلے بھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی حکام ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ان کا مؤقف بدستور وہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں کشیدگی 28 فروری سے بڑھ گئی ہے، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا، جس میں 1300 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








