یا اہلیانِ عالم!
یا مبصرینِ کرکٹ!
ہمیں دیکھیں، ہم پاکستان کے بیٹے ہیں اور ہم آخری مرحلے میں پہنچ گئے ہیں الحمدللہ، ہم نے بہت سے کرکٹ پنڈتوں کی پیشن گوئیاں اڑا کر رکھ دی ہیں، ہم نے بہت سے ارمان خاک میں ملا کر فائنل فور میں قدم رکھ دیے ہیں۔
جی ہاں! یہ دنیا ہے اور یہاں کرامات ہو سکتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں، پہلے نیدر لینڈز نے جنوبی افریقہ کو ہمارے لیے شکست دی اور پھر ہم نے بنگلہ دیش کو کرکٹ کا سبق پڑھا دیا۔
بنگلہ دیش کو 5 وکٹس سے شکست، پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا
آج اس کوارٹر فائنل کی حیثیت اختیار کرنے والے میچ میں ٹاس جیتا بنگلہ دیش نے اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا، شاہین نے دوسرے اوور میں لٹن کا لٹو گھما دیا اور پاکستان نے سکھ کا سانس لیا اور یہی ہماری غلطی تھی، کیوں کہ اس کے بعد فیلڈنگ ہماری شدید بری رہی۔
شاداب نے شانتو کا پندرہ رنز پر کیچ چھوڑا تو شانتو نے چانٹے مارتے ہوئے ہماری طبیعت شانت کر کے رکھ دی اور 54 رنز بنا لیے، دس اوورز میں 70 تھا اور ایک بڑے سکور کی امید کی جا رہی تھی کہ ہمارے کوچ ثقلین مشتاق میدان میں آئے اور پھر آناً فاناً قدرت کا نظام بھی حرکت میں آ گیا۔
یکے بعد دیگرے وکٹس گرنا شروع ہوئیں، شاداب نے سرکار اور پھر اگلی ہی گیند پر شکیب کو بھی جکڑ لیا، میدان سے باہر بھیجنے کیلیے تیسرے ایمپائر کا فیصلہ آیا تب بھی شکیب نے ایمپائرز سے بحث جاری رکھی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا، سو وہ اس فیصلے سے ناخوش باہر چل دیے۔
البتہ آن فیلڈ اور تیسرے ایمپائر کی جانب سے شکیب کو آؤٹ قرار دینا درست نہیں تھا کیونکہ گیند نے واضح طور پر بلے کو ٹچ کیا تھا، الٹرا ایج پر جو ارتعاش ظاہر ہو رہا تھا وہ بلے کا زمین سے ٹکرانے کے باعث نہیں تھا کیونکہ اس عین ارتعاش کے وقت بلا زمین سے بلند تھا۔ بہرکیف یہ شکیب اور بنگلہ شائقین کیلیے بدقسمتی تھی اور ویسے بھی میں تمام بنگالی شائقین کو ازراہِ تفنن ایک بات یاد کروانا چاہوں گا کہ بھائی لوگو! آپ کے کپتان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم کپ جیتنے نہیں آئے، اس لیے آپ ازراہِ کرم گھر جائیں اور ہمیں آگے جانے دیں۔
کپتان شکیب کا آؤٹ اس گیم کو یکسر تبدیل کر دینے والا تھا اور باقی کا کام ہمارے گیند بازوں نے سنبھال لیا، جو سکور 150 پلس جاتا نظر آ رہا تھا وہ محض 127 تک محدود رہا۔ شاہین شاہ نے اعلیٰ اور تگڑی واپسی کرتے ہوئے سوئنگز، یارکرز اور رفتار سے بلے بازوں کو باندھا اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارا یہ شاہین اپنی ردھم اور کارکردگی میں واپس آ گیا ہے، اپنے کیریئر کی بیسٹ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 22 رنز دے کر چار مہرے کھسکائے۔
پاکستان کی باری شروع ہوئی تو تھوڑا سا ہدف دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بابر و رضوان اپنی کھوئی ہوئی فارم بحال کر لیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا، تیسری ہی گیند پر شوخی مارنے کی کوشش میں کیپر نے رضوان کا کیچ چھوڑا اور اس موقعے کو بھی کیش نہ کروا سکا رضوان میاں، یہی حال بابر کے ساتھ بھی ہوا کہ سلسلۂ ناکامی دراز ہوتے ہوتے یہاں تک آن پہنچا اور آج بھی دو مواقع ملنے کے باوجود 33 گیندوں پر اعتماد سے عاری 25 رنز بنا سکے۔
اننگز کو چوتھا گئیر لگانے کیلیے نواز کو بھیجا گیا تو وہ بھی کچھ نہ کر پائے اور چار رنز بنانے کیلیے 11 گیندیں ضائع کر کے چلتے بنے، زمبابوے والے میچ کی صورتحال بن ہی رہی تھی کہ حارث آ گیا، اور یکدم میچ کو پاکستان کے پلڑے میں جھکا دیا، آج تو حارث کو دیکھ کر یہ گنگنانے کو دل کر رہا تھا کہ
ٹُک ٹُک کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو
ہماری زندگی ہے تو
حارث نے باہر جاتے ہوئے ڈرامے سے سسپنس کا خاتمہ کر دیا، باقی رہنے والا کام شان مسعود نے کر دیا اور یوں پاکستان یہ میچ 5 وکٹوں سے جیت گیا۔
غلطیاں پھر بھی بہت سی ہیں، ہماری فیلڈنگ اور بلے بازی میں پاور پلے کا درست استعمال نہ کرنا، یہ اگلے اہم ترین میچ میں ہمارے گلے پڑ سکتا ہے۔
اپنے پچھلے کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ بابر اور رضوان میں سے ایک کو اوپننگ کی قربانی دے کر حارث کو موقع دینا چاہیے تاکہ کم از کم باری کو وہ تگڑا مومنٹم مل سکے جس کی بنیاد پر باقی کھلاڑی کھل کر کھیل سکیں۔
اب بس دو میچز میں مزید فتح اور ورلڈکپ ہمارا ہے۔
پاکستان سب سے زیادہ چھٹی بار عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچا ہے اور ان شاءاللہ اس بار ہم کپ لے کر آئیں گے۔
اس سے قبل نیدر لینڈز نے آج ہی کے روز جنوبی افریقہ کو شکست دے کر پاکستان کی سیمی فائنلز کیلئے راہ ہموار کی۔ ذیل کی تحریر، اس مقابلے کے تناظر میں قارئین کی نذر ہے:
کیا ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہیں؟
نہیں نہیں! یہ حقیقت ہو چکا کہ نیدرلینڈز نے جنوبی افریقہ کو انتہائی اہم مقابلے میں اپ سیٹ شکست دے دی، پاکستان کی امیدیں ابھی بھی زندہ ہیں اور “قدرت کا نظام” حرکت میں آیا ہوا ہے۔
جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور پاور پلے میں بنے 48 رنز، یہیں سے فتح کا مارچ گویا شروع ہو چکا تھا، بعد ازاں درمیانے اوورز میں نورکیا نے عمدہ گیند بازی کی اور 4اوورز میں محض 10رنز دے کر ایک وکٹ بھی حاصل کی اور نیدر لینڈ کو گیم سے تقریباً آؤٹ کر دیا مگر آخر میں ایکریمن اور ایڈورڈ کی عمدہ بلے بازی نے سکور 158 تک پہنچا دیا۔
خاص کر پورا پاکستان آج ایکرمین کا احسان مند ہے جس نے 26 گیندوں پر 41 رنز جوڑ کر ٹیم کا مورال بلند کیا اور نیدرلینڈز کے کھلاڑی مقابلہ کرنے کی نیت سے میدان میں اترے۔
ڈی کوک کو جلدی بھیجا تو روسو آڑے آ گئے، ان کو آؤٹ کیا تو باووما بھی چل دیے، اب مارکرم اور ڈیوڈ ملر رہتے تھے اور یہی خطرناک جوڑی تھی، اس سے پہلے کہ خطرہ بڑھتا، مارکرم کا ایج لگا اور ایک شاندار کیچ سے اس جوڑی کو توڑ دیا گیا، ملر کا اسی دوران ایک کیچ بھی چھوٹا مگر وہ خاطرخواہ فائدہ نہ اٹھا سکے اور گلوور نے پچھلے قدموں پر بھاگتے ہوئے بہترین اور شاندار کیچ پکڑ کر ملر کی باری اور جنوبی افریقہ کی امیدیں ختم کر دیں۔
انگلش میں کہتے ہیں کہ
if choking is an art, then South Africa is the Pecasso of it
once a choker, always a choker
اور یہی کچھ آج بھی ہوا۔
رہتی کسر باقیوں نے پوری کر دی، کلاسین بھی ناکام رہے اور پارنل بھی، البتہ مہاراج نے زخمی ہونے کے باوجود ایک ٹانگ پر رننگ کرتے ہوئے بلے بازی کی، ان کی اس عمدہ کاوش نے دل جیت لیا۔
جنوبی افریقہ 13 رنز سے میچ ہار گیا ہے، پاکستان اور بنگلہ دیش کیلیے میچ کوارٹر فائنل کی حیثیت بن گیا ہے، جو جیتا وہی سکندر یعنی کہ وہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے مقابلہ کرے گا۔
زمبابوے کے خلاف بارش سے میچ متاثر ہونے کا نقصان آج ہوا اور جنوبی افریقہ ٹیم ٹورنامنٹ سے باہرہوگئی۔
نیدرلینڈز کی اس فتح سے بھارت نے سیمی فائنل کی جگہ پکی کر لی ہے اور نیدر لینڈز ہم سے چاہتا ہے کہ ہم بنگلہ دیش کو ہرائیں تا کہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلیے براہ راست انٹری پا سکیں۔
بھائی نیدر لینڈز والو! اتنا تو ہم آپ کیلیے کر ہی سکتے ہیں۔
یہ ورلڈ کپ ابھی آن ہے اور پاکستان کے واپسی کے ٹکٹ کینسل ہو چکے ہیں اور پاکستان کچھ کر دکھانے کا عزم لیے آج نئے جوش اور ولولے سے بنگلہ دیش کا مقابلہ کرے گا۔
بڑھے چلو اے پاکستان کے بیٹو! کہ فتح تمہاری منتظر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








