اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے 23 صفحات پر محفوظ شدہ فیصلہ تحریرکیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دیدی ہے۔
شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج کی تمام مراعات دی جائیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بحال نہیں کیا جا سکتا، فیصلہ میں تاخیر کی وجہ سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال سے زیادہ ہو چکی ہے لہٰذا جسٹس شوکت صدیقی کو ریٹائرڈ جج تصور کیا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








