علماء صحافت کے میدان میں آگے بڑھیں، مولانا شارب رحمانی

تازہ ترین

تازہ ترین

معروف صحافی مولانامحمد شارب ضیاء رحمانی جامعہ رحمانی دہلی کے شعبہ صحافت کی خصوصی دعوت پر جامعہ پہنچے اور اپنا علمی و تحقیقی محاضرہ پیش کیا۔

انہوں نے طلبہ کو فیچرنگاری، اداریہ نویسی، خبرنگاری اور کالم نگاری میں مہارت پیدا کرنے کے لیے اہم نکات کی طرف متوجہ کیا، ساتھ ہی علم صحافت کو مضبوطی کے ساتھ سیکھ کر اسے اپنا پیشہ بنانے کا مشورہ بھی دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

طالبان کا یو ٹرن، بین الاقوامی این جی او کو خواتین ملازمین رکھنے کی اجازت دیدی

انھوں نےصحافت کے اصول واقدارپرمفصل روشنی ڈالتے ہوئے صداقت اور تحقیق کو صحافت کی روح قرار دیااورطلبہ کی صلاحیت اورشعبہ صحافت کی کارکردگی اورسرگرمی کو سراہا اور کہا کہ طلبہ مدارس کے اندر مختلف النوع صلاحیتیں اور لیاقتیں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں۔بس انہیں اچھے مدرسین اور مینٹور کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر میں طلبہ کا صحافتی میدان میں آ کر اپنی کارکردگی پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔جامعہ رحمانی کی اپنی خصوصیت اوراپنی انفرادیت ہے،یہاں کے طلبہ کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیت کامظاہرہ کرسکتے ہیں اورکامیاب ہوسکتے ہیں۔

 محاضرہ سے قبل جامعہ رحمانی کے شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی فضل رحمٰں رحمانی نے مولانا کا شاندار اور جامع تعارف کرایا اور شعبہ کی کارکردگی بھی پیش کی۔انہوں نے کہاکہ حضرت امیرشریعت سابع مفکراسلام حضرت مولانامحمدولی رحمانی صاحبؒ نے ان کی تربیت کی۔

شعبہ کے سربراہ نے مزیدکہا کہ مولانا نے اسی جامعہ رحمانی سے فراغت حاصل کی اور یہاں کی آب و ہوا میں ہی اپنا علمی سفر طے کیا لیکن پڑھنے زمانہ میں ہی انہوں نے اپنے علمی سفر کی منزل طے کر لی تھی جس کانتیجہ ہے کہ آج وہ ملک بھر میں ایک کامیاب صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا لوگوں کو شدت سے انتظار رہتا ہے۔ جو ایک کامیاب محرر کی بڑی علامت ہے۔

مولانا کے محاضرہ کے بعد سوال و جواب کا ایک مختصر سیشن بھی رکھا گیا جس میں طلبہ نے جوش و جذبہ کے ساتھ سوالات کیے ،جس سےصحافت سے ان کی دل چسپی کااندازہ ہوااور بڑی پر سکون فضا میں محاضرنے ان کے سوالوں کا اطمینان بخش جواب دیا۔محاضرہ کے اختتام کے بعد لکچر میں شریک جامعہ رحمانی کے اساتذہ کرام نے بھی اپنے قیمتی تاثرات بیان کیے اور شعبہ صحافت کی کارکردگی کی ستائش کی۔

تاثرات بیان کرنے والوں میں خانقاہ رحمانی میں امارت شرعیہ کے قاضی، قاضی رضی احمد رحمانی، جامعہ رحمانی کے شعبہ دارالحکمت کے استاذ مفتی نشاط احمد ندوی، مولانا عبدالعلیم رحمانی ازہری، دارالاشاعت کے ناظم حافظ محمد امتیاز رحمانی اور ڈاکٹر حفظ الرحمٰن قابل ذکر ہیں۔

ان کے علاوہ مولانامفتی احمدمظاہری ،مولانامشاہد ندوی استاذ دار الحکمت جامعہ رحمانی سمیت متعدد اساتذہ کرام بھی شریک رہے۔

واضح رہے کہ 15دسمبر سنہ 2021کو امیرشریعت ثامن مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے جامعہ رحمانی میں باضابطہ شعبہ صحافت کا آغاز کیا تھا۔

Related Posts