بچوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تنظیم سے منسلک خواتین ملازمین کوکسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا جائےگا۔ اس یقین دہانی کے بعد ’سیو دی چلڈرن‘ افغانستان میں اپنا کام دوبارہ شروع کرے گی۔
تنظیم نے بتایا کہ اسے طالبان کی طرف سے یقین دہانیاں ملی ہیں کہ اس کے ملازمین بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر سکتے ہیں۔
تاہم دوسری طرف طالبان نے’سیو دی چلڈرن‘ کے دعوے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ طالبان حال ہی میں ملک بھرمیں خواتین کی ملازمت پر پابندی عاید کرچکے ہیں اور اس حوالےسے انہوں نے کسی قسم کا عالمی دباؤ قبول کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
“سیو دی چلڈرن” تنظیم نے عندیہ دیا کہ وہ افغانستان میں صحت، غذائیت اور تعلیم کے شعبوں میں اپنا کام دوبارہ شروع کرے گی۔
طالبان کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی کے حکم کے بعد تنظیم نے گذشتہ ماہ افغانستان میں اپنا کام معطل کر دیا تھا۔ طالبان کے فیصلے کے بعد کئی دوسری تنظیموں نے بھی افغانستان میں اپناکام بند کردیا تھا۔ ان میں کرسچن ایڈ اور ایکشن ایڈ جیسے گروپ بھی شامل ہیں۔
اس وقت مغربی ممالک اور مسلمان ممالک نے بھی طالبان کے خواتین کی ملازمت اور تعلیم پرپابندی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ عالمی برادری نے طالبان سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے قائم مقام سربراہ نے طالبان حکومت میں قائم مقام وزیر اقتصادیات پر زور دیا کہ وہ خواتین ’این جی او‘ ملازمین کے کام پر پابندی کے فیصلے کو منسوخ کریں۔ مشن نے مزید کہا تھا کہ لاکھوں افغانوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ طالبان کی اس پابندی سے لاکھوں افغان متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان احکامات کا اطلاق براہ راست اقوام متحدہ پر نہیں ہوتا، لیکن قرارداد میں شامل غیر سرکاری تنظیمیں اقوام متحدہ کے بہت سے پروگرام انجام دیتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








