اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود الگ ہو گئے، جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیا 7رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سویلین مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف 4 درخواستوں کی سماعت کیلئے بنایا گیا 9 رکنی بینچ 2 ججز کے الگ ہونے پر ٹوٹ گیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ سماعت کر رہا تھا۔
بلاول بھٹو نے ککری اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کردیا
سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مظاہر علی نقوی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔
سماعت کے آغاز پر ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ میں حلف کے مطابق آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ پریکٹس اینڈ پراسیجر بھی ایک قانون ہے جس کے مطابق بینچ کی تشکیل ایک میٹنگ سے ہونی تھی۔ کاز لسٹ دیکھ کر تعجب ہوا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ قانون کو بل کی سطح پر ہی روکا گیا ہے۔ 5 مارچ کو نہ تو بل آیا، نہ ایکٹ بنا۔ مجھے صدمہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے 15 مارچ کو میرا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ جب میں ایک بینچ کا حصہ نہیں، تو مجھے شامل کیوں کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ 4 درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے پہلی درخواست دی جس پر اعتراض عائد کیا گیا۔ میں اِس بینچ سے علیحدہ ہورہا ہوں۔ جسٹس طارق مسعود نے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اتفاق کرتے ہوئے بینچ سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








