سانحہ 9مئی کے واقعات سنگین، سپریم کورٹ کی گولیاں نہ چلانے پر فوج کی تعریف

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ 9 مئی کے واقعات کو سنگین قرار دیتے ہوئے شہریوں پر گولیاں نہ چلانے پر پاک فوج کے کردار کی تعریف کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی سپریم کورٹ بینچ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم آئین اور عوام کا دفاع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

ملک کی ترقی کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، وزیر اعظم

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ 9 مئی کو سنگین واقعات ہوئے، میانوالی میں دیوارتوڑی گئی، فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، فوج کی تعریف کرنا ہوگی کہ اس نے شہریوں پر فائرنگ نہیں کی۔ میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ گولیاں چلائی جاتیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جب معروف وکیل اعتزاز احسن نے سوال کیا کہ مظاہرین کو گولی کیوں نہ مار دی؟ تو مجھے بڑا دکھ ہوا۔ فوج دفاع کیلئے ہے۔ گولی نہ چلانا درست اقدام تھا۔ہم مسلح افواج کو غیر قانونی کام نہیں کرنے دیں گے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کو یقین دہانی کرادی ہے، پوری کریں گے، آئین و قانون کو پسِ پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں رات 8 بجے تک سپریم کورٹ میں بیٹھتا ہوں۔ بینچ میں شامل کچھ ججز نے ایک بھی روز کی چھٹی نہیں کی۔

Related Posts