شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ کا سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس

تازہ ترین

تازہ ترین

شوکت صدیقی کیس

شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق ڈی جی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) جنرل فیض حمید سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کردئیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے شوکت صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس عرفان سعادت، جسٹس اظہر رضوی، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مؤکل نے درخواست میں نام شامل کردئیے۔ 

[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODM0ODEsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzQ4MSAtINmF2YTaqSDYqNq+2LEg2LPbkiDZhdiy24zYryAy24HYstin2LEg2LPbkiDYstin2KbYryDYutuM2LEg2YXZhNqp24wg2KjYp9i02YbYr9uSINmI2LfZhiDZiNin2b7YsyDZhNmI2bkg2q/YptuSIiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjE4MzQ4MiwiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMy8xMi9HaGVyLVFhbnVuaS0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2YXZhNqpINio2r7YsSDYs9uSINmF2LLbjNivIDLbgdiy2KfYsSDYs9uSINiy2KfYptivINi624zYsSDZhdmE2qnbjCDYqNin2LTZhtiv25Ig2YjYt9mGINmI2KfZvtizINmE2YjZuSDar9im25IiLCJzdW1tYXJ5Ijoi2YXZhNqpINio2r7YsSDYs9uSINmF2LLbjNivIDIg24HYstin2LEg2LPbkiDYstin2KbYryDYutuM2LEg2YLYp9mG2YjZhtuMINmF2YLbjNmFINi624zYsSDZhdmE2qnbjCDYqNin2LTZhtiv25Ig2YjYt9mGINmI2KfZvtizINmE2YjZuSDar9im25Ig2KzZhiDZhduM2rogMjM1INin2YHYutin2YYg2K7Yp9mG2K/Yp9mGINi02KfZhdmEINuB24zautuUICIsInRlbXBsYXRlIjoic3BvdGxpZ2h0In0=”]

اپنے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا شکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں؟ جبکہ ان الزامات پر مبنی تقریر پر انہیں برطرف کردیا گیا تھا۔ وہ جنرل جنہیں آپ فریق بنانا چاہتے ہیں، کیا وہ خود 2018 میں اقتدار کا حصہ بننا چاہتے تھے؟اگر الزامات درست ہیں تو جنرلز کسی کی سہولت کاری کرنے کے خواہاں تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جس کی سہولت کاری کی گئی، وہ کون تھا؟ اگر الزامات درست تھے تو وزیراعظم کو ہٹا کر کسی اور کو لانے کی خواہش تھی، تو وہ کون تھا؟وکیل حامد خان نے کہا کہ الزامات درست ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یاد رکھیں کہ اصل دائرۂ اختیار کے تحت کیا ہوسکتا ہے؟کیا کوئی فوجی خود وزیراعظم بننا چاہتا تھا؟

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چند افراد پر سنگین الزامات عائد کیے۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ جن پر الزامات لگائے گئے، انہیں جواب کا موقع فراہم کیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ میرا نام استعمال کرکے ایک وکیل نے ڈی سی سے کام نکلوا لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نام تو میرا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم وہ بات کریں کہ جس کا ہمارے پاس ثبوت ہو۔ ہم جنرل باجوہ کو نوٹس کریں گے تو غلط نوٹس پر ہمارے اوپر بات آئے گی۔ آپ نے تقریر میں جنرل فیض کے کہنے کا ذکر کیا۔ اگر جنرل فیض یہاں آ کر کہیں کہ جنرل باجوہ کے کہنے پر یہ سب ہوا تو پھر کڑی جڑ جائے گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔ 

Related Posts