اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنا کیس پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستیں واپس لیے جانے کے عمل پر مختلف سوالات اٹھائے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی عدالتی کارروائی کا تحریری فیصلہ و حکم نامہ جاری کیا جس میں عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے بیان دیا کہ وزارتِ دفاع نظرِ ثانی درخواست پر مزید کارروائی کی خواہاں نہیں اور نظرِ ثانی درخواستیں واپس لی گئیں۔
عمران خان کی 9 مقدمات میں درخواستِ ضمانت خارج کرنیکا فیصلہ کالعدم
حکم نامے میں کہا گیا کہ آئی بی، پیمرا اور پی ٹی آئی نے متفرق درخواست کے ذریعے نظر ثانی درخواست واپس لینے کی استدعا کی۔ شیخ رشید کو نیا وکیل کرنے کیلئے مزید مہلت کی درخواست دی گئی جبکہ درخواست گزار اعجاز الحق فیصلے کے پیرا نمبر4 پر معترض ہیں۔
سماعت کے دوران کیس پر 4سوالات سامنے آئے جن میں سے پہلا یہ ہے کہ نظر ثانی درخواستوں کو طویل وقت کے بعد بھی سماعت کیلئے کیوں مقرر نہ کیا گیا؟ کیا نظر ثانی درخواستیں واپس لینے کا اداروں کا فیصلہ آزادانہ ہے؟ درخواستوں کی واپسی کیلئے ایک ساتھ درخواستیں کیوں آئیں؟
ایک اہم سوال یہ کیا گیا کہ کیا فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا؟ کچھ درخواست گزار حاضر نہیں ہوسکے جنہیں عدالت ایک اور موقع دیتی ہے۔ کسی بھی متاثرہ فرقی کو آگے بڑھ کر اپنا تحریری مؤقف پیش کرنے کی اجازت ہے۔ ایک موقع اور دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کا حکم نامے میں مزید کہنا تھا کہ حقائق منظر عام پر لانے کیلئے کسی بھی شخص کو بیانِ حلفی عدالت میں پیش کرنا ہوگا۔ جواب جمع کرانے کیلئے آخری تاریخ 27اکتوبر مقرر کردی گئی۔ کیس کی آئندہ سماعت یکم نومبر تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








