سپریم کورٹ، عام شہریوں کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر حکمِ امتناع کی درخواست مسترد

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عام شہریوں کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر حکمِ امتناع جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں فوجی عدالت میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے آغاز پر ہی سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق کی جانب سے سماعت سے معذرت پر ٹوٹ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

وزیراعظم کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

چیف جسٹس نے جو 9رکنی بینچ کی صدارت کر رہے تھے، 7 رکنی سپریم کورٹ بینچ تشکیل دے دیا جس نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے فوری حکمِ امتناع کی استدعا مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے وکلاء کو دیکھ کر ریمارکس دئیے کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔

سپریم کورٹ کے 7رکنی بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس سیّد مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس یحییٰ آفریدی شامل ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کو بینچ پر اعتراض ہے تو بتائے۔

درخواست گزار اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی کو بھی بینچ کی تشکیل پر اعتراض نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل نے بھی عدم اعتراض کی تصدیق کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ چھٹیوں کو مدِ نظر رکھا جائے، مختلف ججز مختلف رجسٹریز میں سماعت کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کوشش کریں کہ ملٹری کورٹس کے سوا دیگر درخواستیں واپس لے لی جائیں۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی بھی استدعا کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہمارا فوکس ملٹری کورٹس کے معاملے پر ہے۔ مشاورت کرکے بتائیں گے۔ 

 

Related Posts