بھارت کی نریندر مودی حکومت بین الاقوامی ثالثی عدالت میں سندھ طاس معاہدے سے خوفزدہ ہے، عدالت نے مقدمے کے میرٹس کی سماعت کا دوسرا مرحلہ مکمل کرلیا، تاہم مودی حکومت سماعت میں شرکت کے نوٹس کا جواب دینے اور کسی نمائندے کو پیش کرنے سے بھی دستبردار نظر آئی۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی ثالثی عدالت میں پاکستان اور بھارت کے مابین تاریخی سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ 2 روز کی سماعت کے دران پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی جبکہ بھارتی حکومت کیس کی سماعت کیلئے پیش ہونے سے بھی گریز کر رہی ہے۔
عالمی ثالثی عدالت نے مقدمے کے میرٹس پر دوسرے مرحلے کی سماعت کے دوران نوٹ کیا کہ بھارت نے سماعت میں شرکت کے نوٹس کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی، نہ ہی اپنا کوئی نمائندہ سماعت کیلئے بھیجا۔ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور اطلاق کا جائزہ لینے کیلئے درخواست کی تھی۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق کیس میں مستقل عالمی ثالثی عدالت کی سربراہی امریکی پروفیسر شان ڈی مر کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا اعلان کرتے ہوئے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا تھا، جس پر پاکستان نے آواز اٹھائی اور بھارتی آپریشن کا جواب معرکہ حق سے دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








