وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مذہبی جماعت کے احتجاج کی پاداش میں حکومتی کارروائی کے باعث سیکیورٹی کی صورت حال کشیدہ ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر سے مجموعی طور پر تقریباً 170 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق تحریک میں ملوث افراد کی احتجاجی سرگرمیوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں تعلیمی اور سفری نظام کو شدید متاثر کیا۔ راولپنڈی کے تعلیمی ادارے گزشتہ چار روز سے بند تھے مگر آج دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں۔
سرکاری حکام نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی بند کنیکٹنگ روڈز کو کھول دیا گیا ہے اور مری روڈ و دیگر راستوں پر ٹریفک معمول کے مطابق بہہ رہی ہے۔ راولپنڈی کی مری روڈ کی دوکانیں اور تجارتی مراکز بھی دوبارہ کھل گئیں مگر فیض آباد کی جانب راستہ اور اسلام آباد-راولپنڈی میٹرو بس سروس ابھی بحال نہیں ہوئی۔
دوسری جانب آئی جے پی روڈ، ڈبل روڈ اور ایکسپریس وے بھی بحال کیے گئے ہیں اور راولپنڈی کے ڈبل روڈ سے نائنٹ ایونیو کا راستہ بھی کھل گیا ہے۔ موبائل فون اور ڈیٹا خدمات بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں بحال کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں پارٹی ورکرز، عہدیدار اور سرگرم کارکن شامل ہیں جبکہ انہیں سہولیاتِ امن و قانون کی پابندیوں (MPO) کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے رفتارِ کاروائی اور سیکیورٹی اقدامات پر اجلاس کے دوران بریفنگ لی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








