برطانوی نژاد بھارتی سیکس ایجوکیشن ماہر، ماہر نفسیات اور مصنفہ سیما آنند کا ایک انٹرویو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس نے پاکستان اور بھارت میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔
لندن میں مقیم سیما آنند جو قدیم بھارتی متون، جنسی لذت اور تعلقات پر کھل کر بات کرتی ہیں صحافی شبھنکر مشرا کے پوڈکاسٹ میں مہمان تھیں۔ انٹرویو کے ایک حصے میں انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال جب وہ 63 سال کی تھیں تو ایک 15 سالہ لڑکے نے انہیں انتہائی فحش زبان میں اپروچ کرنے کی کوشش کی۔
شبھنکر مشرا نے حیرت سے پوچھاکہ ایک لڑکا جو آپ سے چار گنا چھوٹا ہے آپ پر ہٹ آن کرنے کی کوشش کر رہا تھا؟ جس پر سیما آنند نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جی ہاں گندے لہجے میں۔
یہ مختصر کلپ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد صارفین میں غصہ اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے جنسی تعلیم اور عمر کے فرق والے اٹریکشن کی ایک مثال قرار دے رہے ہیں جبکہ اکثریت اسے غیر اخلاقی اور تشویش ناک سمجھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر تبصرے میں کہا جا رہا ہے کہ نابالغ (15 سالہ) لڑکے کے حوالے سے ایسی بات کو ہلکے انداز میں پبلک میں شیئر کرنا حدود اور ذمہ داری کے خلاف ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ کشش کا معاملہ نہیں بلکہ حدود اور نابالغوں کی حفاظت کا ہے جبکہ دوسرے صارف نے کہا کہ ایسی گفتگو کو وائرل مواد کے بجائے ایک انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








