غریب ہوتا تو صرف ایف آئی آر پر پکڑا جاتا! سزا یافتہ مجرم عمر ایوب قانون کی گرفت سے دور؛ انصاف کہاں ہے ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گزشتہ سال جولائی میں تحریک انصاف کے چند رہنماؤں کو 9 مئی کے مقدمات میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جس میں سابق وفاقی وزیر عمر ایوب بھی شامل تھے۔ اس سزا کے باوجود حیران کن طور پر، عمر ایوب تاحال گرفتار نہیں کیے گئے۔ وہ نہ تو بیرون ملک ہیں اور نہ کسی غیر قانونی پناہ گاہ میں چھپے ہوئے ہیں بلکہ ایبٹ آباد میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انہیں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ تقریباً عوامی سطح پر دیکھا گیا ہے جس نے عوام میں شدید حیرت اور غصہ پیدا کر دیا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف قانون کے بنیادی اصولوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عوام میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ طاقتور سیاسی رہنما اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد قانون سے بالاتر ہیں۔ اگر کسی عام شہری پر چھوٹی سی ایف آئی آر بھی درج ہو اور وہ غیر حاضر رہے تو پولیس فوری کارروائی کرتی ہے اور کبھی کبھار تو خاندان کے افراد کو بھی گرفتار کر لیا جاتا ہے لیکن ایک سزا یافتہ اور قومی سطح کا مجرم کھلے عام گھوم رہا ہو اور ریاستی ادارے خاموش ہوں تو یہ واضح طور پر امتیازی سلوک اور عدالتی فیصلوں کی بے حرمتی ہے۔

تجزیہ کار اور سیاسی مبصرین اس رویے کو ریاستی اداروں کی نااہلی اور سیاسی دباؤ کے تحت کارروائی نہ کرنے کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قانون سب کے لیے برابر نہیں رہا تو یہ نہ صرف جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بنیاد کو بھی کمزور کرتا ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک سیاسی رہنما تک محدود نہیں۔ عمر ایوب کی عدم گرفتاری نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں

کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے سزا یافتہ مجرم کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں؟

کیا سیاسی اثرورسوخ اور طاقتور پس منظر رکھنے والے افراد کے لیے الگ قوانین نافذ کیے جاتے ہیں؟

اگر کسی عام شہری پر ایف آئی آر درج ہو اور وہ غیر حاضر ہو، تو فوری گرفتاری کی جاتی ہے لیکن ایک قومی مجرم کے لیے یہی نظام کیوں نہیں؟

یہ صورتحال عوام میں عدلیہ اور پولیس کے کردار پر بے اعتمادی پیدا کر رہی ہے۔ لوگ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ قانون صرف عام شہریوں کے لیے سخت ہے، جبکہ سیاسی رہنماؤں اور اثرورسوخ رکھنے والے افراد کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی ادارے ایسے سزا یافتہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہیں، تو یہ نہ صرف قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی انصاف اور تحفظ کے تصور کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اس امر سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا پاکستان میں جمہوریت کے بنیادی اصول، جیسے قانون کی برابری اور شفاف انصاف، حقیقی طور پر نافذ ہو رہے ہیں یا طاقتور اور اثرورسوخ رکھنے والوں کے لیے الگ معیار قائم ہے۔

سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر عمر ایوب جیسے سیاسی رہنما کو گرفتار کرنا ممکن نہیں تو کیا یہ ریاستی اداروں کی سیاسی مداخلت، خوف یا ناکامی کی عکاسی ہے؟ اور عام شہری، جو چھوٹی سے خلاف ورزی پر بھی گرفتار ہوتے ہیں، ان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے؟

یہ کیس نہ صرف قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا محور بنا ہوا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی یہ قانون کی حکمرانی، ریاستی ذمہ داری اور عوام کے اعتماد کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Related Posts