بیٹی پاکستان کا موازنہ اسرائیل سے کرتی ہے باپ زندہ آباد کا نعرہ لگانے سے انکاری! جانیں اچکزئی خاندان کے متنازع بیانات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کیے جانے کا معاملہ حالیہ دنوں میں شدید سیاسی تنازع کا باعث بنا ہے۔ 16 جنوری 2026 کو قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو باضابطہ طور پر قائد حزب اختلاف کا عہدہ سونپ دیا۔ یہ عہدہ اگست 2025 سے خالی تھا جب سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کو مئی 9 کیس میں سزا کی بنا پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

پس منظر اور تقرری کا عمل

یہ تقرری پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تجویز پر ہوئی جنہوں نے جیل سے ہی محمود خان اچکزئی کا نام تجویز کیا تھا۔ اپوزیشن کے 74 ارکان (زیادہ تر PTI کی حمایت یافتہ آزاد ارکان) نے متفقہ طور پر اچکزئی کی حمایت میں دستخط کیے۔

قومی اسمبلی کے قواعد کاروبار (رول 39) کے تحت یہ تقرری عمل میں آئی اور کوئی دوسرا امیدوار سامنے نہیں آیا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں جیسے بیرسٹر گوہر اور امیر ڈوگر نے اسپیکر سے نوٹیفکیشن وصول کیا۔

حکومت کی جانب سے بھی اس تقرری کو قبول کیا گیا اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اسے مفاہمت کی طرف قدم قرار دیا، جبکہ نون لیگی رہنما نواز شریف اور شہباز شریف کے مثبت خیالات کا بھی ذکر کیا۔

تنازعات اور تنقید

محمود خان اچکزئی کے بیانات اور نظریات طویل عرصے سے متنازع رہے ہیں۔ وہ پشتون قوم پرست ہیں اور ماضی میں پاکستان کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں جیسے کہ میں ایسے پاکستان کو زندہ باد نہیں کہوں گا جہاں پشتون غلام ہو یا لاہور پر قبضے کے الزامات۔ ان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی بھی آزادی پسند جدوجہد کے لیے مشہور تھے۔

ان کی بیٹی تاتیرہ اچکزئی (جامعہ بلوچستان میں لیکچرر) نے اکتوبر 2025 میں سوشل میڈیا پر پاکستان کا موازنہ اسرائیل کے سستے ٹیمو ورژن سے کیا تھا جس پر شدید تنقید ہوئی اور یونیورسٹی نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔ صارفین نے اسے پاکستان مخالف قرار دیا۔

یہ تقرری پی ٹی آئی کے اندر اور باہر تنقید کا باعث بنی کیونکہ محمود خان اچکزئی کی پارٹی ایوان میں صرف ایک نشست رکھتی ہے اور کچھ لوگوں نے اسے پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمزوری کا مظہر قرار دیا۔

اکبر ایس بابر کا چیلنج

پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے اس تقرری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ آئین کی خلاف ورزی ہے اور ملک میں انتشار کو بڑھاوا دے گا۔ انہوں نے مک مکا کی سیاست اور اقتدار کے کھلواڑ کا الزام لگایا تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہ چیلنج ابھی عدالت میں داخل نہیں ہوا یا اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔

تجزیہ

یہ تقرری پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کی اتحادی حکمت عملی کا حصہ ہے جو آئین کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جمہوریت کی طرف توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اچکزئی ٹی ٹی اے پی کے سربراہ ہیں جو چھ جماعتوں کا اتحاد ہے۔ پی ٹی آئی رہنما اسے عمران خان کی رہنمائی میں آئینی جدوجہد کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین اسے پارلیمان میں پاکستان مخالف عناصر کی شمولیت اور آئینی اداروں کی توہین قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاملہ پاکستان کی سیاسی پولرائزیشن کو مزید عیاں کرتا ہے جہاں اتحاد اور تنازعات ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ اگر عدالت میں چیلنج کامیاب ہوا تو یہ پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

Related Posts